نئی دہلی، 28 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے بلیا ضلع کے ایک سرکاری اسکول میں چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو مبینہ طور پر گزشتہ دو سالوں سے دوپہر کا کھانا (مڈ ڈے میل) نہ دیے جانے کے معاملے میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے از خود نوٹس لیا ہے۔
این ایچ آر سی نے جمعہ کے روز بتایا کہ کمیشن نے اس سلسلے میں اتر پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ میڈیا میں 27 اگست کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، متعلقہ سرکاری اسکول کے طلبہ نے اپنی شکایت کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو خط لکھا تھا۔ اس کے بعد کی گئی تحقیقات میں مبینہ طور پر سامنے آیا کہ اسکول میں تقریباً 200 طلبہ کو باقاعدگی سے کھانا دیے جانے کے حوالے سے غلط ریکارڈ تیار کیے جا رہے تھے، جبکہ طلبہ کو واقعی مڈ ڈے میل نہیں مل رہا تھا۔
قومی انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹ میں لگائے گئے الزامات درست پائے جاتے ہیں تو یہ بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ ہے۔ کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم کا مقصد بچوں میں غذائیت کی کمی کوروکنا اور انہیں باقاعدگی سے اسکول آنے کی ترغیب دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، تحقیقات کے دوران مالی بے ضابطگیوں اور تقریباً 14 لاکھ روپے کے مبینہ گھپلے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اس میں باورچیوں کو کم ادائیگی کرنے نیز پرنسپل اور دیگر حکام کے ذریعے پردھان منتری پوشن ابھیان کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔










