نئی دہلی، 19 اگست (یو این آئی) کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے مودی حکومت پر ایک بار پھر یو ٹرن لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے میں ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، حلف نامے کے پیرا 12 (ڈی) میں حکومت نے کہا تھا کہ 2011 کی مردم شماری سے پہلے ذاتوں کا کوئی رجسٹر تیار نہیں کیا گیا تھا اور بہتر ہوتا کہ ذاتوں کے انتخاب کے لیے ‘ڈراپ ڈاؤن مینو’ یعنی ذاتوں کی پہلے سے تیار شدہ فہرست ہوتی، جس سے یکساں اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار جمع کیے جا سکتے۔
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ جب حکومت نے خود ایسے نظام کو مثالی بتایا تھا تو مردم شماری 2027 میں ذاتوں کی ایسی فہرست کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بہار اور تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے سے پہلے ایسی فہرست تیار کی گئی تھی۔ کانگریس صدر نے بھی 5 مئی 2025 کو وزیرِ اعظم کو لکھے گئے خط میں ایسے نظام کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مودی حکومت ذات پرمبنی مردم شماری کے نظام کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 30 اپریل 2025 کو ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کر کے اپنے پرانے موقف سے یو ٹرن لیا تھا، لیکن اب وہ اپنے اسی فیصلے سے بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ مسٹر رمیش نے وزیرِ اعظم کو ‘یو ٹرن استاد’ بھی قرار دیا۔









