سرینگر؍۱۳؍اگست
جموں کشمیر میں جولائی کے دوران۳۵ فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے ساتھ ہی پورے یونین ٹیریٹری میں معمول سے کم بارش کا آٹھ ماہ پر محیط سلسلہ ختم ہوگیا۔
ایک آزاد ماہرِ موسمیات کی جانب سے مرتب کیے گئے بارش کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں جولائی کے دوران۲۵۹ء۷ ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ معمول کے مطابق۱۹۲ء۶ ملی میٹر بارش متوقع تھی۔ اس طرح بارش معمول سے۳۵ فیصد زیادہ رہی۔
جولائی میں ہونے والی بارش نے یونین ٹیریٹری میں طویل عرصے سے جاری معمول سے کم بارش کے بعد نمایاں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے دوران کشمیر وادی کے بیشتر اضلاع میں بارش میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ وادی کے تمام اضلاع، سوائے شوپیاں کے، میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کی سب سے زیادہ زیادتی بارہمولہ میں ریکارڈ کی گئی، جہاں بارش معمول سے۱۶۵ فیصد زیادہ رہی۔ اس کے بعد گاندربل میں۱۱۰ فیصد اور پلوامہ میں۱۰۸ فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی۔
سری نگر اور اننت ناگ دونوں اضلاع میں معمول سے۷۱ فیصد زیادہ بارش ہوئی، جبکہ کولگام میں بارش۵۱ فیصد زائد رہی۔
دیگر اضلاع میں بھی معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ بانڈی پورہ میں۳۳ فیصد، کپواڑہ میں۳۲ فیصد اور بڈگام میں چھ فیصد زائد بارش ہوئی۔
شوپیاں وادی کا واحد ضلع رہا جہاں جولائی کے دوران بارش معمول سے کم رہی۔ یہاں۴۰ فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آزاد ماہرِ موسمیات کے مطابق جموں خطے کے کئی اضلاع میں بارش کی صورتحال اس سے بھی بہتر رہی۔
رام بن میں سب سے زیادہ۱۲۵ فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ ادھم پور میں۱۰۸ فیصد، سانبہ میں۹۱فیصد اور راجوری میں۸۸فیصد زائد بارش ہوئی۔
پونچھ میں بارش معمول سے۴۷ فیصد زیادہ رہی، جبکہ ڈوڈہ اور ریاسی میں بالترتیب۱۷؍ اور۱۴ فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔
جموں ضلع میں بارش تقریباً معمول کے مطابق رہی اور یہاں تین فیصد زائد بارش ریکارڈ ہوئی۔تاہم، کٹھوعہ میں بارش معمول سے۲۵ فیصد کم رہی، جبکہ کشتواڑ میں۱۶ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جولائی کے دوران وسیع پیمانے پر ہونے والی بارش نے یونین ٹیریٹری کو مجموعی طور پر زائد بارش کے زمرے میں پہنچا دیا، حالانکہ بعض اضلاع میں اب بھی بارش کی کمی برقرار رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)










