سرینگر؍۱۲ ؍اگست
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے بدھ کے روز۱۹۹۰میں معروف کشمیری پنڈت شاعر و ادیب سرونند کول پریمی اور ان کے کم عمر بیٹے ویریندر کول کے قتل کے سلسلے میں جموں و کشمیر میں۹ مقامات پر تلاشی لی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک ایف آئی آرکے سلسلے میں کی گئی، جو اننت ناگ ضلع کے پولیس اسٹیشن ڈورو میں درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں اس کیس کی تفتیش ایس آئی اے نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔
حکام نے بتایا کہ بدھ کو کی گئی کارروائی کے دوران کن مقامات پر تلاشی لی گئی اور وہاں سے کیا مواد یا شواہد برآمد ہوئے، اس بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
۶۵ سالہ سرونند کول پریمی اور ان کے۲۷ سالہ بیٹے ویریندر کو مئی۱۹۹۰ میں جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں دہشت گردوں نے قتل کردیا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر کول خاندان نے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔
پریمی ایک معروف شاعر، ادیب اور مترجم تھے اور انہوں نے تین درجن سے زیادہ کتابیں تصنیف کی تھیں۔ ان کے ادبی کاموں میں بھگوت گیتا کا اردو میں، رامائن کا کشمیری میں اور رابندر ناتھ ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ کا ترجمہ بھی شامل تھا۔
تازہ تلاشی کی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل ایس آئی اے نے۱۹۹۰ میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق ایک اور طویل عرصے سے زیر التوا مقدمے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
۲۹ جون کو ایجنسی نے سری نگر کی ایک خصوصی عدالت میں۷۳۷صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے پانچ کارکنوں کو سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں ملزم بنایا گیا تھا۔ ان میں تنظیم کے سابق سربراہ محمد یاسین ملک بھی شامل ہیں، جو اس وقت جیل میں ہیں۔
تین ملزمان کی موت ہوچکی ہے، جبکہ خورشید احمد چالکو مفرور ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان فرار ہوچکا ہے۔
ایس آئی اے نے وادی کشمیر میں عسکریت پسندی کے ابتدائی دور سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی اپنی کوششوں کے تحت سرلا بھٹ کیس بھی دوبارہ کھولا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









