کولمبو، 11 اگست (یواین آئی) نو سال بعد ٹیسٹ سیریز کے لیے سری لنکا واپس آنے والی ہندوستان کی ٹیم کو اپنی گہرائی اور مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کا سخت امتحان درپیش ہے۔ مہمان ٹیم جہاں اہم کھلاڑیوں کی انجری سے پریشان ہے، وہیں ریڈ بال کرکٹ میں حالیہ خراب کارکردگی کا سلسلہ ختم کرنے کا دباؤ بھی اس پر ہے۔
دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 15 اگست سے گال میں شروع ہوگی۔ ہندوستان کو اس سیریز میں اپنے اہم تیز گیندباز جسپریت بمراہ کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی، جبکہ ٹاپ آرڈر بلے باز سائی سدرشن بھی پیر کے اسٹریس فریکچر کے باعث باہر ہوگئے ہیں۔ ان کی جگہ سرفراز خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
حالیہ شکستوں نے ہندوستان کو سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی بنچ اسٹرینتھ پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ جموں و کشمیر کے تیز گیندباز عاقب نبی کو بھی بمراہ کی غیر موجودگی میں پہلی بار ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
کپتان شبھمن گل کی انگلی میں ٹریننگ کے دوران چوٹ لگنے اور اس کے بعد وارم اپ میچ سے باہر رہنے نے بھی ہندوستان کی تشویش بڑھا دی ہے۔ اس لیے ابتدائی ٹیسٹ میں ان کی دستیابی ٹیم کے حتمی کمبی نیشن کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔
اسکواڈ کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود ہندوستان سری لنکا کے خلاف شاندار ریکارڈ کے ساتھ سیریز میں اتر رہا ہے۔ ہندوستان نے 2008 کے بعد سے سری لنکا میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری اور 2015 اور 2017 میں اپنی آخری دونوں سیریز جیتی ہیں۔
تاہم تاریخ ہندوستان کی حالیہ مشکلات پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ 2024 میں اسے نیوزی لینڈ کے خلاف گھریلو میدان پر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جو 12 برس میں اس کی پہلی ہوم ٹیسٹ سیریز شکست تھی۔ اس کے بعد آسٹریلیا میں اسے 1-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جنوبی افریقہ نے اپنی سرزمین پر ہندوستان کو 2-0 سے شکست دی، جو 25 برس میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہندوستان کی پہلی ہوم ٹیسٹ سیریز شکست تھی۔
شکستوں کے اس سلسلے نے کوچ گوتم گمبھیر اور کپتان شبھمن گل کی قیادت میں نئی ٹیسٹ ٹیم پر توجہ بڑھا دی ہے۔ سری لنکا کا دورہ ہندوستان کو اعتماد بحال کرنے کا فوری موقع فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان کو اپنی تیاریوں سے کچھ مثبت اشارے بھی ملے ہیں۔ ٹور گیم میں دیودت پڈیکل کی شاندار سنچری نے بلے بازی لائن اپ میں ان کی جگہ مضبوط کردی ہے، جبکہ ٹیم مینجمنٹ نے سری لنکا کی اسپن کے لیے سازگار پچوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلے بازوں کو اسپن کا سامنا کرنے کی بھرپور تیاری کرائی ہے۔
گال ٹیسٹ میں ہندوستانی بلے بازوں کے لیے سخت چیلنج کی توقع ہے، کیونکہ مہمان ٹیم آخری تیاریوں میں اسپن کے خلاف اپنے کھیل کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ سری لنکا کے اسپن گیندبازوں کے طویل اسپیلز کا سامنا کرنے کی صلاحیت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
ہندوستان کو گیندبازی کے شعبے میں بمراہ کی کمی بھی پوری کرنا ہوگی اور اپنے اٹیک میں تجربے اور نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان درست توازن قائم کرنا ہوگا۔ سری لنکا کے لیے یہ سیریز ہندوستان کے نسبتاً کمزور اٹیک سے فائدہ اٹھانے اور ایک ایسی ٹیم کو چیلنج کرنے کا موقع ہے جو اب بھی مستقل مزاجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میزبان ٹیم بھی انجری کے مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث ہندوستان کے بہتر باہمی ریکارڈ کے باوجود مقابلہ یک طرفہ نہیں ہوگا۔
شبھمن گل کے لیے یہ غیر ملکی حالات میں ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے پہلا بڑا امتحان ہوگا۔ سیریز میں کامیابی سری لنکا میں ہندوستان کے شاندار ریکارڈ کو مزید مستحکم کرے گی، جبکہ خراب نتیجہ ٹیم کی ازسرنو تشکیل کے عمل پر سوالات پیدا ہوسکتا ہے۔
ہندوستان کا شاندار ماضی اگرچہ اس کے حق میں ہے، لیکن انجریز، حالیہ ٹیسٹ مقابلوں میں ناکامی اور غیر یقینی کمبی نیشن نے سری لنکا میں اس کی واپسی کو ایک مشکل امتحان بنا دیا ہے۔




