’مجھے پورا یقین ہے کہ ملک میں چپس سے لے کر بحری جہازوں تک، سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے یہیں تیار ہوگا‘
نئی دہلی/۸؍اگست
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) دہلی کی۵۷ویں کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ زندگی میں تجسس کو برقرار رکھیں، مسلسل سیکھتے رہیں اور مشکل سوالات کے جواب تلاش کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’’زندگی میں تجسس کو زندہ رکھیں۔ سیکھنے کی اپنی صلاحیت کو بیدار رکھیں۔‘‘ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان باتوں پر بھی سوال اٹھائیں جنہیں لوگ بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیتے ہیں اور صرف سوال پوچھنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے حل تلاش کرنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جس دنیا میں یہ فارغ التحصیل طلبہ قدم رکھنے جا رہے ہیں، وہ تیزی سے تبدیل ہوتی رہے گی۔ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، صنعتیں، پیشے اور عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ اگلے۲۰ یا۳۰ برسوں کی دنیا کیسی ہوگی، تاہم سیکھتے رہنا ایک بنیادی صلاحیت رہے گی۔
مودی نے طلبہ سے کہا، ’’جو لوگ مسلسل سیکھتے رہیں گے، وہ کامیاب ہوں گے۔‘‘
وزیر اعظم نے فارغ التحصیل طلبہ سے یہ بھی کہا کہ وہ آئی آئی ٹی دہلی میں اپنے سفر کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، جو داخلے اور تعارفی مرحلے سے شروع ہو کر کانووکیشن تک پہنچا ہے، اور اس دوران بننے والی یادوں کو ہمیشہ سنبھال کر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب زندگی میں ذمہ داریاں بڑھیں گی تو یہی یادیں انہیں ان کے طالب علمی کے دور کی یاد دلاتی رہیں گی۔
ملک کے اسٹارٹ اَپ نظام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ نسل کے نوجوانوں نے بھارت میں اسٹارٹ اَپ انقلاب کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی سے وابستہ کامیاب کاروباری بانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر ایک ادارہ اتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے تو ذرا تصور کریں کہ پورے ملک میں کتنی عظیم طاقت تشکیل پا رہی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے بھارت میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی کوششوں کو بھی مشکل اہداف کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے پورا یقین ہے کہ چپس سے لے کر بحری جہازوں تک، سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے یہیں تیار ہوگا۔‘‘
مودی نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ مشکل مسائل سے خوف زدہ ہونے کے بجائے انہیں چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے حل کرنے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا، ’’جب بھی آپ کو کوئی چیلنج بہت بڑا محسوس ہو تو گھبرائیں نہیں۔ اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیں۔‘‘
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آئندہ۳۰ سے۳۵ برسوں کے دوران فارغ التحصیل طلبہ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے بھارت کے ’’وکست بھارت‘‘ کے سفر میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کا کام ملک کی ضروریات کو پورا کرنے اور قومی ترقی میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









