سرینگر/ ۸؍ اگست
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج ممبئی میں رام بھاؤ مہلگی پربودھنی کے زیر اہتمام انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموکریٹک لیڈرشپ کے نویں بیچ کی کانووکیشن تقریب اور دسویں بیچ کی انڈکشن تقریب میں شرکت کی۔
فارغ التحصیل نوجوانوں، اساتذہ، سرپرستوں، منتظمین، معزز مہمانوں اور والدین سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ تقریب دو اہم سفروں کا سنگم ہے، جن میں سے ایک اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے جبکہ دوسرا نئی توانائی اور امیدوں کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔
سنہا نے نویں بیچ کے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی جو اب عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں قدم رکھنے جا رہے ہیں، جبکہ دسویں بیچ کے طلبہ کا بھی گرمجوشی سے خیرمقدم کیا جو جوش و جذبے اور بلند عزائم کے ساتھ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اعتماد ظاہر کیا کہ ادارہ نوجوان قائدین کو آئینی اقدار، نظم و ضبط اور دانش سے آراستہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
رام بھاؤ مہلگی پربودھنی کے۱۹۸۲ میں قیام کے بعد سے اس کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ادارے نے قیادت کی تربیت اور صلاحیت سازی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’۶۰ہزار سے زائد ارکان پارلیمنٹ، قانون سازوں، پنچایتی نمائندوں، کاروباری افراد اور نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے اس ادارے نے حکمرانی اور کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئی آئی ڈی ایل کا قیام اس بات کو یقینی بنانے کی ایک مزید کوشش تھی کہ بھارت کے جمہوری اداروں کو نوجوان قیادت کی توانائی اور عزم مسلسل حاصل ہوتا رہے، جو ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارت کا مستقبل سات اہم چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔ ان میں طویل مدتی اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنا، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور تفرقہ انگیز قوتوں کا خاتمہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا، بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے شفاف، جواب دہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کو فروغ دینا، سیاست میں میرٹ کی بنیاد پر مواقع یقینی بنانا، مشترکہ ثقافتی اقدامات کے ذریعے قومی اتحاد کو فروغ دینا، مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں عالمی قیادت حاصل کرنا اور معیار، تحقیق، اختراع اور مہارت پر مبنی عالمی معیار کا تعلیمی نظام تشکیل دینا شامل ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ ان چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے تمام بھارتیوں، بالخصوص نوجوانوں کے اجتماعی عزم کی ضرورت ہے تاکہ ایک خوشحال، متحد اور عالمی سطح پر مسابقتی بھارت کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں کو یاد دلایا کہ قیادت دراصل ذمہ داری، اخلاقیات اور خدمت کا نام ہے۔ انہوں نے ادارے کے نصب العین ’’لوکاہتم مَمہ کرنییم‘‘ یعنی ’’عوام کی فلاح میری ذمہ داری ہے‘‘ کو مستقبل کے قائدین کے لیے ایک رہنما اصول قرار دیا۔
ویدوں اور اپنشدوں سے مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجتماعی عزم، اتحاد اور نیک نیتی معاشرے میں خوشحالی اور ہم آہنگی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے نوجوان قائدین پر زور دیا کہ وہ اپنے خیالات اور اعمال کو عوامی فلاح کے ساتھ ہم آہنگ کریں اور بھارت کی تہذیبی روایت کو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ کے طور پر آگے بڑھائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’قیادت کا مطلب عوام کو سمجھنا، ان کے لیے نئی راہیں پیدا کرنا اور عاجزی و دیانت کے ساتھ ان کی خدمت کرنا ہے۔ سردار پٹیل کہا کرتے تھے کہ مشکل وقت میں بزدل بہانے تلاش کرتے ہیں جبکہ بہادر راستہ تلاش کرتے ہیں۔‘‘
ایل جی نے ادارے کے اساتذہ اور سرپرستوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتھک محنت، لگن اور صبر کے ساتھ نئی قیادت کو نئی راہیں تلاش کرنے کی ترغیب دی، انہیں حکمرانی کے اصولوں سے روشناس کرایا، مختلف پالیسیوں پر سنجیدہ مباحث میں شامل کیا اور انہیں عوامی زندگی کے حقیقی چیلنجوں کے مقابل اپنے خیالات کو پرکھنے کا موقع فراہم کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جمہوری قیادت کے چار بنیادی اصول بیان کیے۔ ان میں اعتماد کی بنیاد کے طور پر دیانت داری اور شفافیت، فیصلوں کی رہنمائی کے لیے علم و دانش، جمہوریت میں توازن برقرار رکھنے کے لیے حساسیت اور قیادت کی اعلیٰ ترین ذمہ داری کے طور پر عوامی خدمت شامل ہیں۔
سنہا نے کہا کہ ادارے اسی وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ان میں اخلاقی قیادت شامل ہو اور حقیقی کامیابی کا پیمانہ عہدہ نہیں بلکہ ان زندگیوں میں آنے والی تبدیلی ہے جن پر قیادت اثرانداز ہوتی ہے۔
ایل جی نے کہا، ’’جمہوریت کی طاقت آئینی اقدار، اداروں اور ان قائدین میں مضمر ہے جو دیانت داری، عاجزی اور عوامی خدمت کی اقدار کے پابند ہوں۔ یاد رکھیں کہ ادارے جمہوریت کا ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، لیکن اخلاقی قیادت ہی ان میں زندگی، مقصد اور توانائی پیدا کرتی ہے۔ اخلاقی قیادت کے بغیر بہترین ادارے بھی وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتے ہیں، جبکہ دیانت دار اور جواب دہ قیادت عام اداروں کو بھی تبدیلی اور قوم سازی کے طاقتور مراکز میں تبدیل کر سکتی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارت آج تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی آبادیاتی طاقت اور تہذیبی سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’بھارت کی۶۵ فیصد سے زیادہ آبادی۳۵ برس سے کم عمر ہے، اس لیے نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ ٹیمیں تشکیل دے کر، دوسروں کو بااختیار بنا کر اور جامع ترقی کے لیے راستے متعین کرکے اس آبادیاتی فائدے کو قیادت کے فائدے میں تبدیل کریں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے۲۰۲۰کے بعد جموں و کشمیر میں ہونے والی تبدیلیوں کو عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی پر مبنی قیادت کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شمولیت کے ذریعے۳۰ ہزار سے زائد منصوبے مکمل کیے گئے، پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنایا گیا اور ڈیجیٹل حکمرانی کو فروغ دیا گیا، جس سے یہ خطہ اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ شفافیت اور جواب دہی تاریخی تبدیلی لا سکتی ہے۔
سنہا نے نوجوانوں سے کہا، ’’اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اخلاقیات کو اپنا کردار، عوامی خدمت کو اپنی ذمہ داری، ذمہ داری کو اپنی شناخت اور عمدگی کو اپنے کام کا انداز بنائیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی کامیابی کا فیصلہ آپ کے عہدے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آپ نے کتنی زندگیوں کو بدلا، کتنا اعتماد حاصل کیا اور معاشرے پر کتنا مثبت اثر چھوڑا۔ وکست بھارت کے عزم کو حقیقت بنانے کے لیے نوجوان قیادت کو ترقی کی قطار میں سب سے آخر میں کھڑے شخص کی زندگی میں بھی تبدیلی لانی ہوگی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوان قائدین پر زور دیا کہ وہ روایت اور جدیدیت، ترقی اور حساسیت کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک خوشحال، جامع اور اختراعی بھارت کی تعمیر کریں جو دنیا کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے کہا، ’’آپ کا ہر فیصلہ، ہر لفظ اور ہر عمل یا تو ہماری جمہوریت کو مضبوط کرے گا یا اسے کمزور کرے گا۔ اس لیے ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ نوجوان قیادت اختراع سے متحرک، ٹیکنالوجی سے بااختیار، شفافیت کے ذریعے معتبر، حساسیت کے باعث انسان دوست اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے نتائج پر مبنی ہونی چاہیے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ ایسی قیادت بہتر حکمرانی کو مضبوط کرے گی، جمہوریت پر عوام کے اعتماد کو مزید گہرا کرے گی اور ملک کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج کا نوجوان بھارت گزشتہ کسی بھی نسل کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ، باہم مربوط اور بلند عزائم رکھنے والا ہے۔ اس کے پاس نئے خیالات، صلاحیت اور توانائی موجود ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ترقی، مساوی مواقع اور قوم سازی کے وسیع تر مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے راستے متعین کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں اور بڑھتی ہوئی توقعات سے گزرنے والا نیا بھارت ایسے نوجوان قائدین کا منتظر ہے جو پیچیدہ مسائل حل کر سکیں اور ایسی پالیسیاں تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں۔
سنہا نے نوجوانوں سے کہا، ’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت عوام کا اعتماد ہے، اور اعتماد مکالمے، اتفاقِ رائے اور شمولیت کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ حقیقی قیادت ذات، مذہب اور خطے کی حدود سے بالاتر ہوتی ہے، سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور عوامی فلاح کو اپنی سب سے اعلیٰ ذمہ داری سمجھتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
ڈی آئی پی آر










