لہیہ/۸؍اگست
لداخ کے سیاحتی شعبے میں رواں سال مسلسل نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور جون اور جولائی میں مسلسل دو ماہ سیاحوں کی آمد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے ہفتہ کے روز بتایا کہ رواں سال جنوری سے جولائی تک مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں مجموعی طور پر۳لاکھ۳۰ہزار۳۳۲سیاح پہنچے، جو۲۰۲۵ کے پورے کیلنڈر سال کے دوران ریکارڈ کیے گئے۳لاکھ ۳۵ہزار۸۷۲سیاحوںکا۹۸ء۳۵ فیصد ہے۔
عہدیدار کے مطابق سیاحوں کی آمد میں خاص طور پر جون اور جولائی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، جب۲ء۱۲لاکھ سے زائد سیاح لداخ پہنچے۔ یہ تعداد رواں سال اب تک لداخ آنے والے مجموعی۳لاکھ۳۰ہزارسیاحوں کا تقریباً۶۵فیصد ہے۔
جولائی میں لداخ آنے والے سیاحوں کی تعداد ایک لاکھ ۵ہزار ۴۶ رہی، جبکہ جولائی۲۰۲۵ میں یہ تعداد۶۷ہزار۲۷۳ تھی۔ اس طرح رواں سال جولائی میں سیاحوں کی آمد میں۵۶ء۱۵ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی میں آنے والے سیاحوں میں۹۵ہزار۴۱۶ ملکی اور۹ہزار۶۳۰ غیر ملکی سیاح شامل تھے۔
جون میں بھی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اس ماہ ایک لاکھ۷ہزار۷۴۰ سیاح لداخ پہنچے، جبکہ جون۲۰۲۵ میں یہ تعداد۷۵ہزار۸۹ تھی، جس کے مقابلے میں۴۳ء۴۸ فیصد اضافہ ہوا۔ جون۲۰۲۶ میں آنے والے سیاحوں میںایک لاکھ ایک ہزار۶۰ ملکی اور۶ہزار۶۸۰ غیر ملکی سیاح شامل تھے۔
عہدیدار نے کہا کہ یہ رجحان ایڈونچر، قدرتی مناظر، روحانی سرگرمیوں اور بلند پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے لیے لداخ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے کہا کہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ لداخ میں مسلسل بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے شہریوں سے ملکی سیاحت کو فروغ دینے کی اپیل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ حقیقت کہ لداخ میں مسلسل دو ماہ سیاحوں کی آمد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور جولائی کے اختتام تک۲۰۲۵ پورے سال کی مجموعی سیاحتی آمد کا۹۸ فیصد سے زیادہ حاصل کر لیا گیا ہے، انتہائی حوصلہ افزا سنگ میل ہے۔ اپنے ہی ملک کی خوبصورتی اور تنوع کو دیکھنے کے لیے شہریوں سے وزیر اعظم مودی کی اپیل نے ملکی سیاحت کو مزید تقویت دی ہے۔‘‘
سکسینہ نے کہا کہ لداخ ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے محفوظ ترین مقامات میں شامل ہے اور انتظامیہ کی ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ سیاحت میں ہونے والی یہ ترقی مقامی لوگوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرے، جبکہ لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام، منفرد ثقافت اور ورثے کا بھی تحفظ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جون اور جولائی میں سیاحوں کی آمد میں اضافے کو لداخ بھر میں منعقد ہونے والے ثقافتی، روحانی اور تجرباتی نوعیت کے مختلف پروگراموں سے بھی تقویت ملی۔
عہدیدار کے مطابق اس عرصے کے دوران ہونے والی اہم تقریبات میں ہیمس فیسٹیول، پراتھم سندھُو کمبھ، لداخ آسٹرو ویک۲۰۲۶ جو مئی کے آخری ہفتے میں منعقد ہوا، فیانگ تسے ڈپ اور کئی دیگر مقامی خانقاہی تہوار شامل تھے۔ ان تقریبات نے لداخ کے بدھ مت ورثے، ثقافت، روحانیت اور منفرد بلند پہاڑی تجربات میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جولائی تک سیاحوں کی مجموعی تعداد میں ان کے سفری ذرائع کی تفصیل بھی لداخ تک بہتر ہوتی رسائی کی عکاسی کرتی ہے، جس میں فضائی اور سڑک کے رابطوں میں توسیع اور بہتری اہم ہے۔
جنوری سے جولائی۲۰۲۶ کے دوران لداخ آنے والے۳لاکھ ۳۰ہزار ۳۳۲ سیاحوں میں سے ایک لاکھ۵۷ہزار۳۷۱ یعنی۴۷ء۶۴ فیصد ہوائی راستے سے پہنچے، جبکہ ایک لاکھ۱۶ہزار۵۲۳ یعنی۳۵ء۲۷ فیصد سیاح کشمیر کے راستے اور۵۶ہزار۴۳۸ یعنی۱۷ء۰۹فیصد سیاح منالی کے راستے لداخ پہنچے۔
عہدیدار نے کہا کہ سیاحت میں یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ۲۰۱۹ میں لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد رابطہ جاتی بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلی کے ساتھ سامنے آیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لداخ میں سڑکوں کا مجموعی نیٹ ورک۲۰۱۹ میں۱۷۹۹ کلومیٹر سے بڑھ کر۲۰۲۶میں۴۲۰۰ کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے، جبکہ پلوں کی تعداد بھی۱۹ سے بڑھ کر۷۲ ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اہم راستوں پر موسمی بندش کی مدت بھی نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ کشمیر سے لداخ کا گیٹ وے سمجھی جانے والی زوجی لا جو پہلے سالانہ تقریباً۱۲۷ دن بند رہتی تھی، اب صرف۱۶ دن بند رہتی ہے۔
اسی طرح کرگل-زنسکار سڑک کی سالانہ بندش بھی۱۵۴ دن سے کم ہو کر صرف۱۱ دن رہ گئی ہے، جس سے تقریباً پورے سال سیاحوں کے لیے رابطہ بہتر ہوا ہے۔
عہدیدار کے مطابق لداخ میں ہوم اسٹیز کی تعداد بھی۲۰۱۹ میں۱۲۸ سے بڑھ کر۲۰۲۶ میں۲۲۷۵ ہو گئی ہے، جس سے مقامی گھرانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت میں اضافے کو سیاحتی شعبے میں کی جانے والی متعدد اصلاحات سے بھی تقویت ملی ہے، جن کے تحت لیفٹیننٹ گورنر کی رہنمائی میں سیاحوں کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
عہدیدار نے کہا کہ سیاحتی شعبے میں اصلاحات کے ذریعے ضابطوں کی پابندیوں کا بوجھ کم کرنے، پیچیدہ دستاویزات کے عمل کو آسان بنانے اور ہوٹلوں و گیسٹ ہاؤسز کو صنعتی درجہ دینے جیسے اقدامات نے ہوٹل مالکان، گیسٹ ہاؤس مالکان اور ٹور آپریٹروں سمیت سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔
۔۔۔۔۔
ویب ڈیسک










