راجوری/؍۸؍اگست
جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں ایک۱۷ سالہ لڑکی اس وقت دم توڑ گئی جب اسے اسپتال لے جانے والی گاڑی ایک سڑک پر کئی گھنٹوں تک کیچڑ میں پھنسی رہی۔ واقعے کے بعد ضلع انتظامیہ نے ایک سرکاری افسر کو معطل کرکے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
گزشتہ دنوں علاقے میں ہوئی شدید بارشوں کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے سے سڑک کو نقصان پہنچا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ سڑک کی ذمہ داری سنبھالنے والے افسر نے حکام کو سڑک کھلے ہونے کی اطلاع دی تھی۔
حکام کے مطابق جمعہ کو دور افتادہ میتھیانی گاؤں کی رہنے والی۱۷ سالہ لڑکی کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی۔ اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری لے جایا جا رہا تھا کہ چک میتھیانی کے مقام پر مٹی کا تودہ گرنے کے باعث اس کی گاڑی تقریباً تین گھنٹے تک پھنس گئی۔
کافی جدوجہد کے بعد رضاکاروں نے گاڑی کو کیچڑ سے نکالا، تاہم لڑکی کی حالت مزید بگڑ گئی اور اسپتال لے جاتے ہوئے اس کی موت ہوگئی، حکام نے بتایا۔
چک میتھیانی-پنگلار-کوٹچاروال سڑک علاقے کے کئی دور افتادہ دیہات کو جوڑنے والی واحد سڑک ہے۔ گزشتہ سال برسات کے دوران میتھیانی کے قریب یہ سڑک بہہ گئی تھی، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بحال کیا گیا تھا۔
تقریباً دو ہفتے قبل اسی حصے میں مٹی کا تودہ گرنے سے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کے تحت تعمیر شدہ سڑک گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ناقابل استعمال ہوگئی تھی۔
اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مقامی باشندوں نے پی ایم جی ایس وائی حکام پر سنگین غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بار بار درخواستوں کے باوجود اہم سڑک کو بحال نہیں کیا گیا۔ واقعے سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے کے بعد معاملے نے مزید توجہ حاصل کی۔
راجوری ضلع انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ پی ایم جی ایس وائی ڈویژن راجوری کے ایگزیکٹو انجینئر نے ایک سرکاری واٹس ایپ گروپ کے ذریعے انتظامیہ کو اطلاع دی تھی کہ سڑک بحال کر دی گئی ہے اور اس پر ٹریفک چل سکتی ہے۔
تاہم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کوٹرنکہ کی جانب سے بعد میں کی گئی تصدیق میں صورتحال اس کے برعکس پائی گئی۔
اے ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق متوفی لڑکی تقریباً ایک ماہ سے بیمار تھی اور اس سے قبل اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال، جموں میں بھی داخل کرایا گیا تھا۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسے اسپتال سے فارغ کیا گیا تھا، تاہم اس کی حالت دوبارہ بگڑنے پر اہل خانہ اسے جی ایم سی راجوری لے جا رہے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سڑک بند ہونے کے باعث اسپتال پہنچنے میں تقریباً دو سے تین گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔
اے ڈی سی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مٹی کے تودے گرنے اور گہرے گڑھوں کے باعث سڑک کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے موزوں نہیں تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ نرلا بامبل، کوٹچاروال اور پنگلار کے رہائشیوں کو مریضوں، غذائی اجناس اور کھاد کی نقل و حمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اے ڈی سی کی رپورٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے راجوری کے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر (ڈی ڈی سی) ابھیشیک شرما نے تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ افسر کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔
ڈی ڈی سی نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے تباہ ہونے والی سڑک کی فوری بحالی کے لیے بار بار ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود پی ایم جی ایس وائی حکام مطلوبہ کام انجام دینے میں ناکام رہے، جو بادی النظر میں غفلت اور سرکاری ہدایات کی عدم تعمیل کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے تحقیقات مکمل ہونے تک پی ایم جی ایس وائی سب ڈویژن کالاکوٹ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (اے ای ای) اور چک میتھیانی-پنگلار-کوٹچاروال سڑک منصوبے کے انچارج کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا اور انہیں اے ڈی سی کوٹرنکہ کے دفتر میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔
ڈی ڈی سی نے پی ایم جی ایس وائی ڈویژن راجوری کے ایگزیکٹو انجینئر کو بھی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی کہ سڑک کی صورتحال کے بارے میں مبینہ طور پر غلط اطلاع دینے اور اسے بروقت بحال کرنے میں ناکامی پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وضاحت پر غور کیے جانے تک ایگزیکٹو انجینئر کی تنخواہ مزید احکامات تک روک دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ راجوری کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر (اے ڈی ڈی سی) کو واقعے کی تفصیلی تحقیقات کرکے سات روز کے اندر ضلع انتظامیہ کو جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










