وزیر اعظم مودی کاہر شہری کو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ
نئی دہلی؍۵؍اگست
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ سابق ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ایک فیصلہ کن نیا باب تھا جس کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کی زندگیوں میں ہمہ گیر تبدیلی آئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، کاروبار اور کھیلوں کے شعبوں میں مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کی ساتویں برسی کے موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ ہر شہری کو بڑے خواب دیکھنے، انہیں حقیقت کا روپ دینے اور ترقی یافتہ بھارت (وکست بھارت) کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔
مودی نے کہا کہ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں میں بنیادی ڈھانچے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جبکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور کھیلوں جیسے شعبوں میں عوام کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ خواتین ہوں یا سماج کے محروم طبقات، وہ لوگ جو کئی دہائیوں تک اپنے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رہے، انہیں دستورِ ہند کے مکمل نفاذ کے باعث بااختیار بنایا گیا ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم مودی نے کہا’’ آج ہی کے دن سات سال قبل آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍ اے تاریخ کا حصہ بن گئے تھے، جس کے ساتھ جموں و کشمیر اور لداخ کے سفر میں ایک نئے اور فیصلہ کن باب کا آغاز ہوا‘‘۔
واضح رہے کہ۵؍ اگست۲۰۱۹ کو بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے آرٹیکل۳۷۰ کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت حاصل تھی، اور سابق ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا’’ہم جموں و کشمیر اور لداخ کی مسلسل ترقی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر شہری کو بڑے خواب دیکھنے، کامیاب ہونے اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع حاصل ہو‘‘۔
مودی نے کہا’’اس سال۵؍ اگست کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ ملک ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی۱۲۵ ویں یومِ پیدائش منا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’قومی یکجہتی کے لیے ان کی پوری زندگی پر محیط وابستگی آج بھی نسلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کئی دہائیاں قبل جس خواب کا تصور پیش کیا تھا، وہ۵؍اگست۲۰۱۹ کو تاریخی طور پر شرمندۂ تعبیر ہوا‘‘۔
ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی بھارتیہ جن سنگھ کے بانی تھے، جو موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی پیش رو جماعت تھی۔ وہ آرٹیکل۳۷۰ کو ختم کر کے جموں و کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ مکمل طور پر ضم کرنے کے حامی تھے۔
دریں اثنا، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی بدھ کے روز کہا کہ آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍ اے کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ میں’امن، ترقی اور مساوی مواقع کے ایک نئے دور‘کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے وژن کی تکمیل تھا اور اس کے ذریعے ایک خوشحال جموں و کشمیر، ترقی یافتہ لداخ اور وکست بھارت کی تعمیر کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ ہوا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں راجناتھ سنگھ نے لکھا’’آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍ اے کی منسوخی کو سات سال مکمل ہونے پر جموں و کشمیر اور لداخ میں امن، ترقی اور مساوی مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی۱۲۵ ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہم بھارت کے اتحاد کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ایسا وژن جو۵؍اگست۲۰۱۹ ء کو تاریخی حقیقت میں تبدیل ہوا۔ اپنے مقصد میں متحد اور اپنے عزم میں ثابت قدم بھارت ایک خوشحال جموں و کشمیر، ترقی یافتہ لداخ اور وکست بھارت کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
ایجنسیاں









