(ایجنسیاں)
نئی دہلی، ۳ اگست
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز سخت گیر علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی دو قریبی ساتھیوں کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت سنائی گئی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سے جواب طلب کر لیا۔
آسیہ اندرابی (۶۲)، جو ۱۹۸۷ء میں خواتین کی علیحدگی پسند تنظیم دخترانِ ملت (ڈی ای ایم) کی بانی ہیں، اور ان کی قریبی ساتھی ناہیدہ نسرین (۵۸) اور صوفی فہمیدہ (۴۸) کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے ۱۴ جنوری کو مجرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان تینوں نے جموں و کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کے لیے منظم مہم چلائی۔
بعد ازاں ۲۴ مارچ کو ٹرائل کورٹ نے آسیہ اندرابی کو عمر قید، جبکہ صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کو ۳۰، ۳۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
پیر کے روز جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن پر مشتمل بنچ نے اپیلیں دائر کرنے میں ہوئی تاخیر کو معاف کرتے ہوئے معاملے میں این آئی اے کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے سزا معطل کرنے کی درخواستوں پر جواب داخل کرنے کے لیے این آئی اے کو ۱۵ ستمبر تک کا وقت دیا، جبکہ آئندہ سماعت کے لیے ۶ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔
آسیہ اندرابی اور ان کی دونوں ساتھیوں پر فروری ۲۰۲۱ء میں یو اے پی اے اور تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
استغاثہ کا الزام تھا کہ انہوں نے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش رچی اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی۔ٹرائل کورٹ نے انہیں یو اے پی اے کی دفعہ ۱۸ (سازش کی سزا) اور دفعہ ۳۸ (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت سے متعلق جرم) کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔
اس کے علاوہ عدالت نے تینوں کو تعزیراتِ ہند کی دفعات ۱۵۳-اے (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، ۱۵۳-بی (قومی یکجہتی کے خلاف بیانات)، ۱۲۱-اے (حکومتِ ہند کے خلاف جنگ کی سازش)، ۱۲۰-بی (مجرمانہ سازش) اور ۵۰۵ (عوامی فساد کو ہوا دینے والے بیانات) کے تحت بھی قصوروار ٹھہرایا تھا۔
سزا سناتے وقت ٹرائل کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مجرموں نے اپنے اعمال پر کسی قسم کی ندامت ظاہر نہیں کی، بلکہ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے، وہ درست تھا، اور وہ آئندہ بھی یہی کام جاری رکھیں گے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی برتنا دراصل ان کے ان عزائم کو نئی تقویت دینے کے مترادف ہوگا، جن کا مقصد بھارت کے ایک اٹوٹ حصے کو ملک سے الگ کرنا ہے۔اپریل ۲۰۱۸ء میں مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر این آئی اے نے آسیہ اندرابی، ان کی دونوں ساتھیوں اور دخترانِ ملت کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مرکزی حکومت کو اطلاع ملی تھی کہ آسیہ اندرابی، صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین ایک ایسی تنظیم دخترانِ ملت چلا رہی ہیں، جسے یو اے پی اے کے پہلے شیڈول کے تحت کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے اشتعال انگیز اور نفرت آمیز تقاریر و بیانات پھیلا کر بھارت کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ دخترانِ ملت، آسیہ اندرابی کی قیادت میں جموں و کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کی کھلے عام وکالت کرتی رہی ہے اور بھارت کے خلاف جہاد اور تشدد کی بھی حمایت کرتی رہی ہے۔
این آئی اے کے مطابق آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں نے اپنی تقاریر، تحریروں اور شائع شدہ مواد کے ذریعے حکومتِ ہند کے خلاف نفرت اور بے زاری پیدا کرنے کی کوشش کی، جبکہ تنظیم مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو فروغ دینے والی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہی۔
ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا کہ آسیہ اندرابی نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے مدد طلب کی اور اپنی ساتھیوں کے ساتھ مل کر حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی مجرمانہ سازش میں حصہ لیا۔
آسیہ اندرابی کو جموں و کشمیر پولیس نے اپریل ۲۰۱۸ء میں ضلع اننت ناگ سے اس الزام میں گرفتار کیا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں اور سنگبازی کا منصوبہ بنا رہی تھیں، جس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔










