نیند عیش و آرام نہیں بلکہ حیاتیاتی ضرورت ہے، مسلسل کم سونا دل، دماغ، شوگر، موٹاپے اور ذہنی امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے:ڈاکٹر سلیم خان
سرینگر؍۲۹ جون
گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر کے شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر ایس محمد سلیم خان نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مناسب اور بروقت نیند کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل نیند کی کمی جسمانی صحت، ذہنی سکون اور مجموعی معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
عوامی صحت سے متعلق ایک آگاہی پیغام میں ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ مناسب نیند دراصل جسم کی سب سے مؤثر قدرتی دوا ہے اور نیند کا ہر ضائع ہونے والا گھنٹہ بالآخر دماغ، دل، میٹابولزم، قوتِ مدافعت اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔
مشاورتی ہدایت نامے کے مطابق۱۸ سے۶۴ سال کی عمر کے افراد کو روزانہ۷ سے۹گھنٹے جبکہ۶۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو۷سے۸ گھنٹے نیند لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ چھ گھنٹے سے کم نیند لینا متعدد سنگین طبی مسائل سے منسلک ہے۔
ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ انسانی جسم فطری طور پر رات کے وقت سونے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور آدھی رات کے بعد مسلسل جاگتے رہنے سے جسم کا قدرتی حیاتیاتی نظام (سرکیڈین ردھم) متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہارمونز کا توازن، میٹابولزم، ذہنی کیفیت اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر نے بتایا کہ نیند میلاٹونن، سیروٹونن، ڈوپامین، آکسی ٹوسن، کیٹی کولامینز اور جی اے بی اے جیسے اہم ہارمونز اور نیورو ٹرانسمیٹرز کے توازن کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر خان کے مطابق اچھی نیند جذباتی استحکام، مضبوط قوتِ مدافعت، بہتر توجہ، یادداشت، خود اعتمادی، ہمدردی اور دل کی صحت کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ناکافی نیند چڑچڑے پن، بے چینی، ڈپریشن، فیصلہ سازی میں کمزوری، کام کی صلاحیت میں کمی، سماجی تنہائی اور ذہنی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر نے مزید کہا کہ نیند کی کمی دماغ کی یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت، توجہ اور فیصلہ سازی کو متاثر کرتی ہے اور دماغ سے نقصان دہ فضلات کے اخراج کے قدرتی عمل کو بھی کمزور بناتی ہے، جس سے الزائمر اور دیگر اعصابی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر خان نے خبردار کیا کہ مسلسل کم نیند لینے سے بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور جسم میں سوزش بڑھ سکتی ہے، جس سے دل کے امراض اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر نے کہا کہ ناکافی نیند انسولین کی حساسیت کو کم کرتی ہے، زیادہ کھانے کی خواہش پیدا کرتی ہے اور موٹاپے و ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ قوتِ مدافعت کمزور ہونے سے جسم مختلف انفیکشنز کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے اور ویکسین کی افادیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کم نیند لینے سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور دمہ جیسے دائمی امراض مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ہارمونز کے عدم توازن کے باعث ذہنی دباؤ بڑھتا ہے، مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہو سکتی ہے جبکہ خواتین میں ماہواری کی بے قاعدگی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم خان نے خبردار کیا کہ مسلسل نیند کی کمی ڈپریشن، بے چینی، ذہنی تھکن، نشہ آور اشیا کے استعمال، یادداشت کی کمزوری اور حتیٰ کہ ڈیمنشیا جیسے امراض کے خطرات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے مطابق صرف ایک رات کی خراب نیند بھی انسان کے جذباتی ردعمل میں تقریباً۶۰ فیصد اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور جذباتی عدم استحکام بڑھ جاتا ہے۔
شعبۂ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر نے کہا کہ ناکافی نیند کی عام علامات میں صبح کے وقت مسلسل تھکن، توجہ میں کمی، مزاج میں تبدیلی، زیادہ بھوک لگنا، وزن میں اضافہ، کام کی صلاحیت میں کمی، قوتِ مدافعت کی کمزوری، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا بڑھتا ہوا خطرہ شامل ہیں۔
صحت مند نیند کے لیے انہوں نے باقاعدہ اوقاتِ کار کے مطابق سونے، رات ساڈھے دس سے ۱۱ بجے کے درمیان بستر پر جانے، پرسکون اور تاریک ماحول میں سونے، روزانہ جسمانی ورزش کرنے اور صبح کی دھوپ سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا۔
داکٹر خان نے یہ بھی کہا کہ رات گئے بھاری غذا کھانے، شام کے وقت چائے، کافی اور نکوٹین کا زیادہ استعمال کرنے، ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نیند آور ادویات لینے، سونے سے قبل موبائل یا دیگر اسکرینوں کے زیادہ استعمال اور آدھی رات کے بعد جاگنے کی عادت سے گریز کرنا چاہیے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر ڈاکٹر سلیم خان نے کہا’’نیند کوئی عیش و آرام نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی ضرورت ہے۔ نیند کا ہر ضائع ہونے والا گھنٹہ اس کی قیمت دماغ، دل، میٹابولزم، قوتِ مدافعت اور ذہنی صحت ادا کرتے ہیں۔‘‘
۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










