ہفتہ, جون 13, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ڈاکٹرفاروق کا یو این کی انسانی حقوق کمیٹی سے پی او کے کی صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-06-12
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
ڈاکٹرفاروق کا یو این کی انسانی حقوق کمیٹی سے پی او کے کی صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 علاقے میں جاری بے چینی کے دوران وہاں کے لوگ شدید جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں

ایجنسیز

متعلقہ

’کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے جموں کشمیر میں ہاکی کو فروغ ملا‘

’وکست بھارت کا ہدف اجتماعی ذمہ دار ی‘

سرینگر؍۱۱جون

            نیشنل کانفرنس کے صدر ‘فاروق عبداللہ نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) کی صورتحال کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں جاری بے چینی کے دوران وہاں کے لوگ شدید جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں۔

            سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ ریاست مشکلات سے دوچار ہے۔ اس کا ایک حصہ پاکستان کے قبضے میں ہے جہاں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ وہاں کئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ وہاں سے آنے والی خبریں پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ پاکستان کے زیرِقبضہ جموں و کشمیر میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

            ڈاکٹر فاروق نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے اپیل کی کہ وہ اس علاقے کا دورہ کرے اور زمینی حالات کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا’’میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وہاں جائے اور دیکھے کہ لوگوں کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے تاکہ ہمیں اور پوری دنیا کو معلوم ہو سکے کہ وہ کن مشکلات سے گزر رہے ہیں‘‘۔

            سابق وزیرِ اعلیٰ عبداللہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ادارے کو موجودہ حالات کی تحقیقات کرنی چاہئیں اور وہاں کے لوگوں کے خدشات دور کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔

            حال ہی میں پی او کے میں بڑے پیمانے پر بے چینی دیکھنے میں آئی جب حکام نے ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی عائد کر دی اور اس کے اراکین کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں اور بعد میں ہونے والی جھڑپوں میں۲۰سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

            اس تنقید کے جواب میں کہ نیشنل کانفرنس عوامی شکایات کے ازالے میں ناکام رہی ہے، فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی محدود اختیارات کے ساتھ مشکل حالات میں کام کر رہی تھی۔

            ڈاکٹر فاروق نے کہا’’وہ ہمیشہ یہی کہیں گے۔ انہیں ان مشکلات کا اندازہ نہیں ہے جن میں ہم کام کر رہے ہیں۔ اختیارات تقسیم ہیں۔ زیادہ تر اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں، حالانکہ ان کے پاس یہ اختیارات نہیں ہونے چاہئیں۔ وہ تو صرف دہلی سے نامزد ہو کر آئے ہیں۔ یہاں عوام نے حکومت منتخب کی ہے۔ اختیارات منتخب حکومت کے پاس ہونے چاہئیں، نہ کہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس‘‘۔

            جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے مسئلے پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اپنی آئینی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر متحد ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم خاموش نہیں ہیں۔ ہم لڑتے رہیں گے۔ آئین کے تحت ہمیں احتجاج کا حق حاصل ہے تاکہ ہم وہ چیز واپس حاصل کر سکیں جو ہم سے چھین لی گئی ہے‘‘۔

            اس سوال کے جواب میں کہ کیا نیشنل کانفرنس دہلی میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شرکت کی خاطر جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کرے گی، فاروق عبداللہ نے کہا کہ پارٹی کسی کو ذاتی طور پر قائل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا’’ہم انہیں کیوں بلائیں؟ ہم تو جا ہی رہے ہیں۔ جو آنا چاہے، آئے۔ ہم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں جا رہے۔ ہم کسی سے آنے کی درخواست نہیں کریں گے‘‘۔

            وزیر اعظم نریندر مودی کے ملک کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے کے حوالے سے ایک سوال پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ ریکارڈ اب بھی سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے نام ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’نہرو۱۷ برس تک وزیر اعظم رہے تھے جبکہ مودی ابھی صرف۱۲ برس سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔‘‘

            جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے سیاحتی مقام  ‘لال درمن کے زیریں گاؤں ’سازان‘ میں جمعرات کی سہ پہر کو آسمانی بجلی تیز دھماکے کے ساتھ چیڑ (پائن) کے ایک بڑے درخت پر گری۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں جہاں جنگلاتی اراضی اور کھڑی فصلوں کو  نقصان پہنچا، وہیں آس پاس کے کھیتوں میں کام کرنے والے کسان جان بچانے کیلئے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

            سرکاری ذرائع کے مطابق، بجلی گرنے کا یہ واقعہ شدید تھا جس کی زد میں آکر کچھ مخروطی (کونیفیرس) درخت جھلس گئے اور آس پاس کی قدرتی نباتات ملبے کا ڈھیر بن گئیں‘ تاہم کسی جانی نقصان یا رہائشی مکانات کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

            واقعے کے ایک عینی شاہد، مقامی باشندے عبد الرزاق نے لرزتی آواز میں بتایا’’ہم کھیت میں کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک ایسا بہرا کر دینے والا دھماکہ ہوا جس نے ہمارے پیروں تلے زمین ہلا کر رکھ دی۔ چند ہی سیکنڈوں میں ہم نے چیڑ کے درختوں سے دھواں اٹھتے دیکھا۔ وہ منظر انتہائی ہولناک تھا اور ایسا لگا جیسے قیامت آ گئی ہو‘‘۔

            ایک اور مقامی خاتون، عائشہ بیگم نے اس افراتفری کے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا’’دھماکے کا اثر اتنا شدید تھا کہ ہر کوئی چیخنے چلانے لگا۔ کھیتوں میں موجود لوگوں نے ایک دوسرے کو خبردار کرنے کے لیے شور مچایا۔ ہم نے اپنے اوزار وہیں چھوڑے اور جان بچانے کے لیے اپنے گھروں کی طرف دوڑ لگا دی‘‘۔

            واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی سول انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ حکام نے متاثرہ جنگلاتی اراضی اور نجی زرعی زمینوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

            دوسری جانب، محکمہ موسمیات نے خطے کے لیے ایک تازہ موسمی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اگلے چند دنوں کے دوران موسم کے مزید جارحانہ اور غیر مستحکم ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔

            محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا’’لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران گھروں کے اندر ہی رہیں۔ تیز ہواؤں، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے عمل کے دوران کھلے کھیتوں میں کھڑے ہونے یا اکیلے اور اونچے درختوں کے نیچے پناہ لینے سے ہرگز گریز کریں کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔

            ضلعی انتظامیہ ڈوڈہ نے بھی، خاص طور پر پہاڑی اور بالائی علاقوں میں رہنے والے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ناموافق موسمی حالات کے دوران حفاظتی پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

یہ جنگ کا دور نہیں، تنازعات کا  واحد حل سفارتکاری  ہے:جے شنکر

Next Post

وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’وکست بھارت کا ہدف اجتماعی ذمہ دار ی‘
اہم ترین

’کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے جموں کشمیر میں ہاکی کو فروغ ملا‘

2026-06-12
’کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے جموں کشمیر میں ہاکی کو فروغ ملا‘
اہم ترین

’وکست بھارت کا ہدف اجتماعی ذمہ دار ی‘

2026-06-12
وزیر اعلیٰ عمر کی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات
اہم ترین

وزیر اعلیٰ عمر کی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات

2026-06-12
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ
اہم ترین

وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ

2026-06-12
جے شنکر نے بمسٹیک میں لیا حصہ ، دہشت گردی سمیت کئی امور پر ہوئی بات چیت
اہم ترین

یہ جنگ کا دور نہیں، تنازعات کا  واحد حل سفارتکاری  ہے:جے شنکر

2026-06-12
ڈوڈہ میں آسمانی بجلی  سے چیڑ کے درختان خاکستر
اہم ترین

ڈوڈہ میں آسمانی بجلی سے چیڑ کے درختان خاکستر

2026-06-12
۲۶ جنوری کی تقریباتٹریفک کیلئے راہنما ہدایات
اہم ترین

رات کے اوقات میں سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی بندش

2026-06-12
جموں صوبے کیلئے سی آر پی ایف کی ۳ اضافی بٹالین بھیجی جائیگی
اہم ترین

’امرناتھ یاترا کے پُرامن  اور محفوظ انعقاد کیلئے پیشگی  اقدامات کیے جائیں گے‘

2026-06-12
Next Post
وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ

وزیر اعلیٰ کا جموں و کشمیر کیلئے مزید سرمایہ کاری کا مطالبہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.