ایجنسیز
صوفیہ؍۱۱ جون
بھارت کے وزیر خارجہ‘ ایس جے شنکر نے عالمی سطح پر جاری متعدد تنازعات کے تناظر میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ’یہ جنگ کا دور نہیں‘ اور موجودہ تنازعات کا واحد حل بات چیت اور سفارت کاری ہے۔
ایس جے شنکر نے بدھ کے روز بلغاریہ کی نائب وزیر خارجہ ویلیسلاوا پیٹرووا-چامووا کے ساتھ ملاقات کے بعد یہ خیالات ظاہر کیے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں کئی بڑے تنازعات، اقتصادی سلامتی سے متعلق خدشات، کووڈ وبا کے اثرات اور دہشت گردی کے مسلسل خطرات درپیش ہیں۔
جئے شنکرنے کہا’’ان تمام معاملات پر بھارت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہے۔ ان تنازعات کا واحد حل بات چیت اور سفارت کاری ہے‘‘۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کی آواز کے طور پر بھارت نے توانائی، خوراک اور کھاد کی دستیابی سے متعلق خدشات کو بارہا اجاگر کیا ہے۔
جئے شنکرنے کہا’’اقتصادی خطرات سے نمٹنے کا راستہ سپلائی چین کو مزید مضبوط اور متنوع بنانا ہے۔ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ سمندری تجارت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اور نہ ہی اسے خطرات لاحق ہوں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ۱۹کے دور نے بین الاقوامی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔
دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا’’دہشت گردی کے معاملے میں دنیا کو زیرو ٹالرنس (صفر برداشت) کی پالیسی اپنانا ہوگی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ان تمام امور پر بھارت اور بلغاریہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور یکساں سوچ پائی گئی۔
ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بندھو راکھ اور کے کے حقو اسٹیڈیم جموں میں جدید مصنوعی ہاکی ٹرفس کی تعمیر جاری ہے۔
ان کے مطابق’’یہ منصوبے جدید تربیت، خصوصی کوچنگ کیمپس اور صلاحیتوں کی نشاندہی کے پروگراموں کی استعداد میں نمایاں اضافہ کریں گے اور مستقبل کے قومی سطح کے کھلاڑیوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کریں گے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت نوجوان صلاحیتوں کو آگے بڑھنے اور ’وکست بھارت‘ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے مواقع اور وسائل فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔انہوں نے کہا’’رنجی ٹرافی چیمپئن شپ سے لے کر ’نشہ مکت جموں و کشمیر‘ مہم تک، ہمارے نوجوانوں نے مختلف میدانوں میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور عزم کا ثبوت دیا ہے۔ مجھے ان کے جذبے پر فخر ہے اور میں چاہتا ہوں کہ قوم کی تعمیر میں ان کا کردار سب سے نمایاں ہو۔‘‘










