ایجنسیز
سرینگر؍۹ جون
جموں کشمیر اپنی پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی درجہ اور۵؍ اگست۲۰۱۹کے بعد منسوخ کیے گئے دیگر آئینی حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد کریں اور اس مقصد کے لیے مرکز کے ساتھ ایک آواز میں بات چیت کریں۔
سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر‘الطاف بخاری نے کہا کہ پارٹی کی سیاسی امور کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، خصوصاً ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
بخاری نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں اس حساس اور اہم مسئلے سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اپنی پارٹی کے صدر نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے لیے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
بخاری نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے نیشنل کانفرنس ایک وسیع تر مسئلے کو جماعتی مطالبے تک محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ یہ معاملہ اجتماعی کوششوں کا متقاضی ہے تاکہ نئی دہلی کو جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ اور دیگر آئینی حقوق بحال کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں جموں میں ایک کنونشن کے دوران بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ جس طرح لداخ اور کرگل کے عوامی نمائندوں اور قیادت نے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اپنے مطالبات کے لیے متحدہ موقف اختیار کیا، اسی طرح جموں و کشمیر کے تمام فریقین کو بھی اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی ہمیشہ اس مؤقف کی حامی رہی ہے کہ جموں و کشمیر کو جو کچھ بھی حاصل ہونا ہے وہ نئی دہلی سے ہی حاصل ہوگا، اس لیے تمام سیاسی و سماجی حلقوں کو متحد ہو کر ریاستی درجہ اور دیگر آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے مرکز کے ساتھ مثبت اور مربوط انداز میں بات چیت کرنی چاہیے۔
اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر آ کر اہم مسائل کی نشاندہی، ترجیحات کے تعین اور مشترکہ لائحۂ عمل کی تیاری کرنی چاہیے، جس کے بعد مرکز کے ساتھ منظم اور تعمیری انداز میں مذاکرات کیے جائیں۔ ان کے مطابق محاذ آرائی کی سیاست جموں و کشمیر کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
بخاری نے کہا کہ اگر کوئی بھی جماعت یا تنظیم عوامی مسائل کے حل اور جائز مطالبات کے لیے مشترکہ کوشش کا آغاز کرتی ہے تو ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی۔
اپنی پارٹی کے صدرنے مرکز سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے، جیسا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ماضی میں وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان متعدد سنگین مسائل سے دوچار ہیں، جن میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ہیں جبکہ بدعنوانی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں ایسے افراد جیلوں میں بند ہیں جنہیں معافی دے کر اپنے خاندانوں کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔
بخاری نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی ان کی جماعت کی اولین ترجیح ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دیگر آئینی حقوق کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے آئی اے ایس اور کے اے ایس کیڈرز کو اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں ضم کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ۵؍اگست۲۰۱۹کے بعد سلب کیے گئے تمام حقوق بحال کئے جانے چاہئیں۔










