مرکز کا ملک گیر ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں : میگھوال
نئی دہلی؍۳۰مئی
مرکزی وزیر قانون‘ارجن رام میگھوال نے کہا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے یا پورے ملک میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد کرنے کی کوئی تجویز اس وقت مرکز کے زیر غور نہیں ہے، اگرچہ مختلف حلقوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میگھوال نے کہا کہ گائے کے ذبیحے سے متعلق قوانین مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں اور اس بارے میں فیصلے مقامی حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے اور ملک بھر میں اس کے ذبیحے پر پابندی لگانے کے مطالبات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ اس نوعیت کی درخواستیں اور نمائندگیاں ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومت کو باقاعدگی سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔
وزیر قانون نے کہا، ’’مختلف تنظیمیں ان معاملات پر کام کرتی رہتی ہیں اور ارکانِ پارلیمنٹ سے بھی رابطہ کرتی ہیں۔ لوگ درخواستیں دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے اقدامات کیے جائیں۔‘‘تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایسی کوئی تجویز مرکزی کابینہ کے زیر غور نہیں ہے۔
میگھوال نے کہا، ’’اس وقت ہمارے سامنے ایسا کوئی معاملہ نہیں جو کابینہ کے غور و خوض میں ہو۔ اگر مستقبل میں کوئی تجویز اس مرحلے تک پہنچتی ہے جہاں حکومتی فیصلہ یا کابینہ کی منظوری درکار ہو، تو ہم اس بارے میں آگاہ کریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’مختلف ریاستیں اپنے حالات اور ضروریات کے مطابق ایسے معاملات پر فیصلے کرتی ہیں۔‘‘
وزیر قانون نے گائے کے ذبیحے پر مکمل پابندی کے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو مسلسل زیر بحث رہتا ہے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اس پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
میگھوال نے کہا، ’’لوگ بار بار اس معاملے کو اٹھاتے ہیں۔ اس کی حمایت کرنے والے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور بحث و مباحثہ بھی ہوتا رہتا ہے، لیکن فی الحال یہ معاملہ اس مرحلے پر نہیں پہنچا جہاں حکومت کی سطح پر فیصلہ سازی کا عمل شروع ہو چکا ہو۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ جہاں مختلف ہندو تنظیمیں ملک بھر میں گائے کے ذبیحے پر پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، وہیں بعض مسلم تنظیموں اور علماء نے بھی گائے کو قومی جانور قرار دینے اور اس کے ذبیحے پر ملک گیر پابندی کی حمایت کی ہے۔
مولاما ارشد مدنی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اس مطالبے کی تائید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اس مسئلے سے متعلق کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔سابق نائب صدر‘حامد انصاری نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دینے سے اس کے ذبیحے سے متعلق بار بار پیدا ہونے والے تنازعات کم ہو سکتے ہیں تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں سے گائے کی قربانی سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام کسی مخصوص جانور کی قربانی کو لازمی قرار نہیں دیتا۔
اسی طرح مولانا خلیل رشید نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ گائے کو قومی جانور قرار دینا ان مذہبی عقائد اور ثقافتی جذبات کے احترام کی عکاسی کرے گا جو بہت سے ہندوؤں کے ساتھ وابستہ ہیں۔
عیدالاضحیٰ سے قبل متعدد دیگر مسلم رہنماؤں اور علماء نے بھی اسی نوعیت کی اپیلیں کی تھیں، جس کے باعث حالیہ ہفتوں میں یہ موضوع ایک بار پھر عوامی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔(پی ٹی آئی)










