آپریشن سندور:بھارتی بحریہ
نے پوری پاکستانی بحریہ کو بند
رگاہوں تک محدود رکھا:راج ناتھ
ایجنسیز
لکھنؤ؍۳۰مئی
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہفتہ کے روز کہا کہ بھارتی بحریہ نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران پوری پاکستانی بحریہ کو اس کی بندرگاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔
لکھنؤ میں قائم کھلے فضائی بحری عجائب گھر ’نوسینا شوریہ واٹیکا‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنگھ نے کہا، ’’آپریشن سندور کے دوران پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے میں بحریہ نے اہم کردار ادا کیا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہماری بحریہ مکمل تیاری اور طاقت کے ساتھ بحیرۂ عرب میں تعینات تھی اور مسلسل دشمن پر دباؤ بنائے ہوئے تھی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی پوری بحریہ اپنی بندرگاہوں تک محدود رہی۔‘‘
واضح رہے کہ پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کیلئے۷مئی۲۰۲۵ کو آپریشن سندور شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت بھارتی افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے متعدد ٹھکانوں پر انتہائی درست حملے کیے تھے۔ بعد ازاں۱۰مئی کی شام دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت ہونے کے بعد فوجی تصادم روک دیا گیا تھا۔
نوسینا شوریہ واٹیکا کے افتتاح کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جسے بھارتی بحریہ کی تاریخ، عملی صلاحیتوں اور سمندری کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، سنگھ نے کہا کہ یہ نہ صرف لکھنؤ اور اتر پردیش کے عوام بلکہ ’’ہمارے لیے بھی فخر اور اعزاز کا لمحہ‘‘ ہے۔
وزیر دفاع نے کہا، ’’آنے والے برسوں میں یہ مقام نہ صرف لکھنؤ کے لیے ایک مرکزِ ترغیب بنے گا بلکہ ایک سیاحتی مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا اور شہر کی نمایاں شناختوں میں شمار ہوگا۔‘‘
اس سے قبل راج ناتھ سنگھ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے تریپاٹھی اور نائب وزرائے اعلیٰ برجیش پاٹھک اور کیشو پرساد موریہ کی موجودگی میں سی جی سٹی علاقے میں شوریہ واٹیکا کا افتتاح کیا۔
بھارتی بحریہ اور اتر پردیش محکمہ سیاحت کے اشتراک سے تیار کیا گیا یہ عجائب گھر بحریہ کی بہادری، جرات اور تکنیکی برتری کے نام وقف ہے۔ایک غیر ساحلی شہر لکھنؤ میں بحری عجائب گھر کے قیام کی وجہ بیان کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ سمندری سلامتی ہر شہری سے جڑی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔










