روایتی بازاروں میں سب سے خریداری جانے والی اشیا میں جائے نماز، خواتین کے عبائے اور عربی کرتے(ثوب) شامل
ندائے مشرق ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۹مئی
حج۲۰۲۶کے آخری دن حجاج کی بڑی تعداد مکہ مکرمہ میں خریداری کرتی دکھائی دی۔ شہرِ مقدس کے گلی کوچے جو ایام حج کے دوران حجاج کی مشاعر روانگی کے وقت خالی ہو گئے تھے اب ایک بار پھر پررونق ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حجاج کی بڑی تعداد تیسرے دن کی رمی کرنے کے بعد مکہ مکرمہ پہنچی جہاں انہوں نے واپس اپنے ملکوں کو روانگی سے قبل بازاروں کا رخ کیا تاکہ تحفے تحائف خریدے جاسکیں۔
وہ حجاج جن کی واپسی حج کے فوری بعد ہوگی وہ مکہ مکرمہ کے بازاروں سے خریداری میں مصروف دکھائی دیئے، جبکہ وہ حجاج جن کی واپسی مدینہ منورہ سے ہونا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ شہرِ نبوی الشریف سے اپنے احباب کے لیے تحائف خریدیں گے۔
مکہ مکرمہ کے روایتی بازاروں میں سب سے خریداری جانے والی اشیا میں جائے نماز، خواتین کے عبائے اور عربی کرتے(ثوب) شامل ہیں جو حجاج واپس جاکر اپنے رشتہ داروں کو تحفے میں دیں گے۔
خریداری کے حوالے سے جنوبی ایشیائی ممالک سے آنے والے حجاج کا رجحان تحائف کی جانب زیادہ دیکھنے میں آیا جبکہ کم تعداد میں حجاج کی جانب سے زیوارت کی خریداری کرتے دیکھی گئی۔
مکہ مکرمہ کی مختلف زیارتوں کے حوالے سے حجاج کی بڑی تعداد کو غارِ حراء اور جبل الثور کا رخ کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس کے علاوہ ایام حج کے دوران حجاج نے مسجد الخیف اور البیعہ مسجد میں بھی یادگاری تصاویر بنائیں۔
مسجد البیعہ کو مسجد عقبہ بھی کہا جاتا ہے، جو وادی منی میں جبل ثبیر کے دامن میں واقع تاریخی مسجد ہے۔ اس مقام پرانصارِ مدینہ نے رسول اکرم ؐکے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔
اس دوران ہزاروں مسلمانوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جمعہ کو مکہ مکرمہ سے واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔
اس سال دنیا کے عظیم ترین مذہبی اجتماع میں۱۶۵ ممالک کے۱۷ لاکھ سے زیادہ حجاج نے شرکت کی۔’’میں یقین نہیں کر سکتا کہ میں نے حج مکمل کر لیا ہے‘‘ پہلی بار حج کی سعادت حاصل کرنے والے۳۷ سالہ مصری حاجی احمد ممدوح نے کہا۔
اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا’’میں بہت خوش ہوں کہ میں نے مناسکِ حج بحفاظت مکمل کیے۔ حج واقعی تھکا دینے والا ہوتا ہے بالخصوص ایسے گرم موسم میں‘‘۔
الجزائر کے۷۴ سالہ حاجی الزاوی نے اپنی اہلیہ کے گرد بازو لپیٹ کر کہا’’ہمارا خواب ایک ساتھ حج کرنا تھا، شادی کے۵۰ سال بعد اب یہ خواب پورا ہو گیا ہے‘‘۔
جمعہ کے روز حج کے تیسرے دن حجاج مکہ کے جنوب مشرق میں وادی منی میں رمی جمرات مکمل کی جس میں وہ شیطان کے علامتی ستونوں پر کنکریاں ماریں گے۔
اس کے بعد وہ بسوں میں سوار ہو کر الوداعی ’طواف‘ کرنے کے لیے مکہ کی مسجد الحرام جائیں گے – اس میں اسلام کے مرکزی مقام خانہ کعبہ کے گرد سات بار چکر لگایا جاتا ہے۔
سعودی حکام نے حالیہ برسوں میں گرمی سے حفاظت کے اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں زیادہ سایہ دار علاقے اور صحت کے ہزاروں اضافی کارکنان کی تعیناتی شامل ہے۔
سعودی ہلالِ احمر نے جمعرات کو کہا کہ اس نے حج سیزن شروع ہونے کے بعد سے۸۳ہزار سے زائد افراد کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کیں۔










