پونچھ میں بھی دہشت گردوں کیخلاف نیا سرچ آپریشن شروع
ایجنسیز
جموں؍۲۹مئی
جموں کشمیر کے ضلع راجوری میں جنگلاتی علاقوں میں چھپے ہونے کے شبہ میں دو سے تین پاکستانی دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سیکورٹی فورسز نے جمعہ کو مسلسل ساتویں روز بھی ’’آپریشن شیروالی‘‘ جاری رکھا، جبکہ پڑوسی ضلع پونچھ میں بھی دہشت گردوں کے خلاف ایک نیا تلاشی آپریشن شروع کیا گیا۔ یہ بات حکام نے بتائی۔
حکام کے مطابق سیکورٹی فورسز نے منجاکوٹ علاقے کے دوری مال،گمبھیر مغلہ خطے میں دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو بھاری فائر پاور سے نشانہ بنایا، کیونکہ دہشت گرد دشوار گزار پہاڑی علاقوں، وادیوں اور گھاٹیوں میں مسلسل اپنی پوزیشنیں تبدیل کر رہے ہیں۔
ادھر پونچھ ضلع کے سرنکوٹ علاقے میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیموں نے مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد محاصرہ اور تلاشی مہم شروع کی۔ حکام کے مطابق دو سے تین مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاعات تھیں، جس کے بعد علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک دونوں اضلاع میں آپریشن جاری تھا۔
راجوری میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے دوری مال-گمبھیر مغلہ بیلٹ میں مشتبہ پناہ گاہوں پر فائر اسالٹ کیے جانے کے بعد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد تلاشی کارروائی مزید تیز کر دی گئی۔
بدھ کے روز شمالی فوجی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں بھیم سین توتی اور سی آر پی ایف کے ایک انسپکٹر جنرل نے علاقے کا دورہ کرکے جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشن کا جائزہ لیا تھا۔
حکام کے مطابق جمعرات کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے شدید فائرنگ اور متعدد گرینیڈ لانچر حملوں کے نتیجے میں جنگلاتی علاقے سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشتبہ ٹھکانوں کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
سیکورٹی فورسز مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور پیر کے روز فرار ہونے والے دہشت گردوں کے مبینہ خون کے نشانات کا تعاقب کر رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ خون کے نشانات ملنے والے مقام کے اطراف محاصرہ سخت کرنے کے دوران مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خفیہ ٹھکانہ بھی دریافت کیا گیا۔
فوجی ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور تربیت یافتہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ ٹیمیں ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔ آپریشن کے علاقے کے گرد اضافی نفری تعینات کرکے محاصرے کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
سیکورٹی اقدامات کے تحت آپریشن والے علاقے سے منسلک سڑکوں پر گاڑیوں کی سخت چیکنگ جاری ہے، جبکہ گمبھیر مغلہ کے دوری مال جنگلاتی علاقے میں مزید کمک بھی روانہ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ’’آپریشن شیروالی‘‘ گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز اس وقت شروع کیا گیا تھا جب سنگھ پورہ-چھترو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات کے بعد دوری مال-گمبھیر مغلہ بیلٹ میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تصادم ہوا تھا۔
بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت سے متعلق مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر علاقے میں بڑے پیمانے پر محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا تھا۔
دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہونے کے بعد مختصر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے دشوار گزار اور گھنے جنگلاتی علاقے میں اپنی تلاشی مہم جاری رکھی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں دو سے تین پاکستانی دہشت گرد، جن میں ایک کمانڈر بھی شامل ہے، چھپے ہوئے ہیں۔










