ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۹مئی
آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جموں و کشمیر سائبر کرائم محکمہ نے عوامی مشاورتی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی فون کالز، فشنگ لنکس، او ٹی پی فراڈ اور مشتبہ آن لائن درخواستوں کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانے والے سائبر مجرموں سے ہوشیار رہیں۔
یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب خطے میں سائبر جرائم سے متعلق شکایات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دھوکہ باز عناصر جدید اور گمراہ کن ڈیجیٹل طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی ذاتی معلومات، بینکنگ تفصیلات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ عوام نامعلوم یا مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں، کسی بھی صورت میں اپنا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور کسی بھی غیر مانوس نمبر یا آن لائن درخواست پر ردعمل ظاہر کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق کریں۔
سائبر کرائم محکمہ نے صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ واٹس ایپ سمیت اپنے میسجنگ ایپلی کیشنز کی سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے ’’ٹو اسٹیپ ویری فکیشن‘‘ کو فعال کریں، تاکہ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی اور جعلسازی کی کوششوں سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔
حکام نے خبردار کیا کہ سائبر مجرم اکثر بینک اہلکاروں، سرکاری افسران، کسٹمر کیئر نمائندوں یا جان پہچان کے افراد کا روپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات فراہم کرنے یا رقم منتقل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
محکمہ نے زور دے کر کہا کہ سائبر فراڈ کے معاملات میں فوری رپورٹ درج کرانا انتہائی اہم ہے، خصوصاً مالی لین دین سے متعلق دھوکہ دہی کے واقعات میں، کیونکہ بروقت کارروائی مشتبہ ٹرانزیکشنز کو روکنے اور رقم کی واپسی کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سائبر فراڈ کے کسی بھی واقعے کی فوری اطلاع پولیس کو دیں یا نیشنل سائبر کرائم پورٹل کے ذریعے شکایت درج کرائیں۔ اس کے علاوہ مدد اور رہنمائی کے لیے سائبر ہیلپ لائن نمبر۱۹۳۰پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ عوامی مشاورتی مہم سائبر کرائم محکمہ کی جاری بیداری مہمات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل تحفظ کو فروغ دینا اور انٹرنیٹ پر مبنی خدمات اور مواصلاتی پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے دوران ذمہ دارانہ آن لائن رویوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔










