والد کا دہلی میں انتقال ‘ آخری رسومات آج بعد دوپہر ادا ہوں گی
مشرق خبر
سرینگر؍۱۸ مئی
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں جیل میں بند بارہمولہ کے رکن پارلیمان شیخ عبدالرشید عرف انجینئر رشید کو ان کے والد کے انتقال کے بعد۲جون تک عبوری ضمانت دے دی۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ نے حکم دیا کہ عبوری ضمانت کی مدت کے دوران انجینئر رشید کے ساتھ سادہ لباس میں کم از کم دو پولیس اہلکار ہر وقت موجود رہیں گے، جو تہاڑ جیل سے روانگی سے لے کر سری نگر سے واپسی تک ان کے ہمراہ رہیں گے۔
عدالت نے انہیں تدفین کے مقام یا کسی عبادت گاہ جانے کی اجازت دی، تاہم حکم دیا کہ وہ سری نگر اور لنگیٹ میں اپنی رہائش گاہوں کے علاوہ کہیں اور جانے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
انجینئر رشید نے عدالت سے عبوری ضمانت اس بنیاد پر طلب کی تھی کہ ان کے والد، جو ایمس میں زیر علاج تھے، اتوار اور پیر کی درمیانی شب انتقال کر گئے۔
رشید کے وکیل وکھیات اوبرائے نے عدالت کو بتایا کہ تدفین، مذہبی رسومات اور دیگر آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے عبوری ضمانت ضروری ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’اپیل کنندہ کے والد کے انتقال کے پیش نظر اپیل کنندہ کو۲ جون۲۰۲۶تک عبوری ضمانت دی جاتی ہے۔‘‘
عدالت نے مزید کہا، ’’ضمانت کی مدت ختم ہوتے ہی اپیل کنندہ متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے سامنے خود سپردگی کرے گا اور اسے دوبارہ تہاڑ جیل، دہلی منتقل کیا جائے گا۔‘‘
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ انجینئر رشید کی فوری اہل خانہ کے علاوہ کسی اور شخص سے ملاقات صرف پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ہوگی، جبکہ انہیں صرف ایک موبائل نمبر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جس کی تفصیلات تحقیقاتی افسر کو فراہم کی جائیں گی اور وہ ہر وقت فعال رکھا جائے گا۔
عدالت نے انہیں گواہوں یا ان کے اہل خانہ سے رابطہ نہ کرنے، کسی مجرمانہ یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے اور عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہ جانے کی ہدایت بھی دی۔
اس سے قبل۲۸؍اپریل کو عدالت نے انہیں سری نگر میں اپنے علیل والد سے ملاقات کے لیے ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی تھی، جسے بعد میں۱۰مئی تک بڑھا دیا گیا تھا کیونکہ ان کے والد کو علاج کے لیے ایمس منتقل کیا گیا تھا۔
انجینئر رشید دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان پر جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے الزامات ہیں۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انہیں۲۰۱۷کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد سے وہ۲۰۱۹سے دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
ادھر عوامی اتحاد پارٹی کے چیف ترجمان انعام النبی نے اطلاع دی ہے کہ بارہمولہ کے رکن پارلیمان انجینئر رشید کے والد محمد خضیر شیخ کی نمازِ جنازہ کل۱۹مئی (منگل) کو دوپہر۲ بجے ان کے آبائی گاؤں موار پائیں، تحصیل قلم آباد، ہندواڑہ میں ادا کی جائے گی۔
انعام النبی نے کہا کہ مرحوم محمد خضیر شیخ ایک باوقار شخصیت اور سینئر استاد تھے، جن کے انتقال سے جموں و کشمیر بھر میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔انہوں نے انجینئر رشید کی آمد کے بارے میں بتایا کہ وہ صبح سری نگر ہوائی اڈے پہنچیں گے اور وہاں سے براہِ راست اپنے آبائی گاؤں موار ہندواڑہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ اپنے والد مرحوم کی نمازِ جنازہ اور دیگر آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان نے عوام سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہوئے خیر خواہوں اور حامیوں سے جنازے کے دوران نظم و ضبط اور وقار برقرار رکھنے کی درخواست بھی کی۔










