اللہ میاں کی قسم ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ……. کہ کشمیر کی کوئی بھی سیاسی جماعت کبھی کچھ غلط نہیں کر سکتی ہے ……. بالکل بھی نہیں کر سکتی ہے ۔ اگر آپ دنیا کے سب بڑے وکیل کی خدمات حاصل کریں وہ بھی کشمیر کی کسی سیاسی جماعت کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کر پائے گا اور بالکل بھی نہیں کر پائے گا۔نیشنل کانفرنس سے کہاجارہا ہے کہ وہ شراب پر پابندی عائدکرے…….گورےگورے بانکے چھورےوزیر اعلیٰ ‘عمرعبداللہ سے جواب مانگا جارہاہے کہ انہوں نے شراب کی دکانوں کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ حکومت کسی کو ہاتھ پکڑ پر شراب پینے نہیں لیتی ہے ……. ہندو اکثریتی ریاستوں میں شراب کی دکانیں بند کی جاری ہیں ‘ ان پر پابندی لگائی جاتی ہے ……. لیکن ایک مسلم اکثریتی ریاست ……. معاف کیجئے یو ٹی میں شراب کی دکانوں اور شرابیوں ‘ دونوں کا دفاع کیا جارہا ہے ……. لیکن صاحب این سی یہ ’غلطی ‘ ماننے کیلئے تیار نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے اور اس لئے نہیں ہے کہ ……. کہ اس کا جاننا اور ماننا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے کون سا شراب پینا ممنوع قرار دیا تھا ……. پہلے ان سے حساب لیا جائے‘ ان سے جواب مانگا جائے ……. پھر ہم سے جواب طلب کیا جائے …….کہا جاتا ہے کہ دو غلطیاں مل کر ایک صحیح بات نہیں بنا سکتی ہیں ……. بالکل بھی نہیں بنا سکتی ہیں ……. لیکن کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا کیا کیجئے گا جو خود کا حساب ‘ خود کا جائزہ نہیں لیتی ہیں ……. اپنی غلطیوں کو غلط نہیں مانتی ہیں اوراس لئے نہیں مانتی ہیں کیونکہ یہی غلطی ان کے سیاسی حریفوں سے سرزد ہو تی ہے ……. اپنی غلطی کا جواز دوسرے کی غلطی کی نشاندہی کرکے تلاش کیا جاتا ہے اور ……. اور باربار کیا جاتا ہے ……. تو بتایئے کہ کون سا مائی کا لال کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر سکے گا ……. عمرگزر جائیگی لیکن ……. لیکن کوئی نہیں کر سکے گا ‘بالکل بھی نہیں کر سکے گا ۔اس لئے صاحب بات چاہے شراب کی ہو ‘ روز گار کی فراہمی کی ہو ‘یا حکمرانی ہو ‘ تعمیر و ترقی کی ہو ‘ رشوت سے پاک گورننس کی ہو …….کسی سیاسی جماعت کا آپ گریبان نہیں پکڑ سکتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں پکڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنا دفاع حریف سیاسی جماعتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرکے کرےگی اور سو فیصد کرے گی۔ ہے نا؟



