چوہان کی یو ٹی کے خواتین کی قیادت والے دیہی ترقیاتی ماڈل کی تعریف
ایجنسیز
سرینگر؍۱۳مئی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج محکمہ دیہی ترقی اور جموں و کشمیر رورل لائیولی ہڈ مشن (اُمید) کو دیہی معیشت کی بہتری اور خواتین کو بااختیار بنانے میں ان کی نمایاں خدمات پر مبارکباد پیش کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی اور’اُمید‘ مشن کی مسلسل کوششوں نے خواتین کی قیادت والے سیلف ہیلپ گروپس(ایس ایچ جیز) کو مضبوط بنا کر، مالی شمولیت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کر دیہی علاقوں میں اہم سماجی و اقتصادی تبدیلی پیدا کی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ بیان’اُمید‘ کے تحت خواتین کی قیادت والے دیہی ترقیاتی اقدامات کو قومی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج شیو راج سنگھ چوہان نے بھی جموں و کشمیر حکومت اور جموں و کشمیر رورل لائیولی ہڈ مشن (اُمید) کی قیادت کو ریاست بھر میں حاصل کی گئی نمایاں کامیابیوں پر سراہا۔
وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے ایک خط میں مرکزی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ قدر کے کاروباری منصوبوں کو وسعت دینے، مارکیٹ نظام کو مضبوط بنانے اور مختلف اسکیموں کے درمیان تال میل بڑھانے پر مسلسل توجہ ’اُمید‘ کے تحت حاصل شدہ ترقی کو مزید تیز کرے گی۔
پروگرام کے مستقبل کے بارے میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ جموں و کشمیر خواتین کی قیادت والے دیہی ترقیاتی ماڈل میں آئندہ بھی نئی مثالیں قائم کرتا رہے گا۔
اپنے مکتوب میں مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر ’اُمید‘ مشن کے تحت جامع اور خواتین کی قیادت والی دیہی تبدیلی کی ایک مضبوط مثال بن کر ابھرا ہے۔
مالی شمولیت کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت۳۱۰۶کروڑ روپے سے زائد بینک قرضہ اور۸۲۰کروڑ روپے کی سرمایہ جاتی معاونت فراہم کی گئی، جس نے اس پیش رفت کو مزید تقویت بخشی۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بجٹ خطاب۲۰۲۶۔۲۷ میں کہا تھا کہ ’لکھ پتی دیدی‘ اقدام کے تحت اب تک۲لاکھ۹۵۲ خواتین ایس ایچ جی اراکین ’لکھ پتی دیدی‘ بن چکی ہیں، جبکہ باقی۳۲ہزار۴۸ممکنہ خاندانوں کو جون۲۰۲۶تک اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا تاکہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور دیہی کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
اب تک۸ء۱۰لاکھ سے زائد خواتین کو۹۶ہزار سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپس میں منظم کیا جا چکا ہے، جبکہ۳۱۰۶کروڑ روپے سے زائد بینک قرضے فراہم کیے گئے ہیں اور’لکھ پتی دیدی‘ اقدام کے تحت۲ء۳۰لاکھ سے زیادہ خواتین کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت ’مشن یووا‘ کے ساتھ اس اقدام کو مربوط کر کے ’لکھ پتی دیدیوں‘ کی تعداد میں فعال طور پر اضافہ کرے گی۔










