دوبارہ امتحان کا عمل۷ سے۱۰ دن میں شروع ہوگا:ابھیشیک/معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۲مئی
قومی امتحانی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل‘ابھیشیک سنگھ نے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ۔یو جی۲۰۲۶میں مبینہ پرچہ لیک معاملے پر امتحان کی منسوخی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ امتحان کا شیڈول آئندہ’سات سے دس دن‘کے اندر جاری کیا جائے گا۔
قومی امتحانی ایجنسی نے منگل کو۳مئی کو منعقد ہونے والا نیٹ۔یو جی۲۰۲۶؍امتحان منسوخ کر دیا تھا، جبکہ حکومت نے مبینہ بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کیلئے معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔
ابھیشیک سنگھ نے کہا’’دوبارہ امتحان کی تاریخ طے کرنے کیلئے میں اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ چند دنوں میں مکمل شیڈول اور تاریخوں کا اعلان کروں گا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ امتحان کم سے کم وقت میں منعقد کیا جائے تاکہ طبی کالجوں کے تعلیمی اور داخلہ نظام پر اثر نہ پڑے۔ اس عمل کا آغاز اگلے سات سے دس دن میں ہو جائے گا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دوبارہ امتحان کیلئے امیدواروں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی جبکہ پہلے جمع کی گئی فیس واپس کی جائے گی۔
دریں اثنا مرکزی وزیر تعلیم‘دھرمندر پردھان نے نیٹ۔یو جی۲۰۲۶کی منسوخی سے متعلق میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
ابھیشیک سنگھ نے اس واقعے کو’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا’’پرچہ لیک جیسے واقعات فوری طور پر ختم ہونے چاہئیں۔ یہ ہمارے ملک کے بچوں، ان کے والدین اور پورے امتحانی نظام کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس امتحانی عمل میں دو لاکھ سے زیادہ افراد شامل تھے‘‘۔
ان کاکہنا تھا’’یہ صورتحال ہر شخص کیلئے تکلیف دہ ہے۔ جو کچھ ہوا ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، یہ غلط تھا۔ اسی لئے ہم امتحان منسوخ کر رہے ہیں اور اسے دوبارہ منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ امتحان سے قبل طلبہ میں گردش کرنے والی پی ڈی ایف فائل میں شامل بعض سوالات اصل سوالیہ پرچے سے مشابہ تھے، جس کے بعد امتحان منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی۔
سنگھ نے کہا’’پورا پرچہ لیک نہیں ہوا تھا۔ مرکزی تفتیشی بیورو اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ کتنے سوالات لیک ہوئے۔ ہم ایجنسی سے اپیل کریں گے کہ ذمہ دار افراد کو گرفتار کر کے سخت کارروائی کی جائے‘‘۔
ابھیشیک سنگھ کے مطابق۳مئی کو منعقد ہونے والے امتحان میں چار مختلف کوڈ والے سوالیہ پرچے استعمال کئے گئے تھے اور کوئی بھی مکمل پرچہ بازار میں دستیاب نہیں تھا۔انہوں نے کہا’’پی ڈی ایف میں شامل کئی سوالات امتحان کے سوالات سے ملتے جلتے تھے، لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ پورا پرچہ لیک ہوا تھا۔ تاہم اگر ایک سوال بھی ہمارے سوالیہ پرچے سے ملتا ہے تو صفر برداشت اور صفر غلطی کی ہماری پالیسی متاثر ہوتی ہے اور پورا امتحانی عمل مشکوک ہو جاتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو گمراہ کرنے یا امتحانی عمل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
این ٹی اے کے سربراہ نے کہا’’میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ اس طرح کی شرارت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ جہاں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ کوئی سوالیہ پرچے فروخت کر رہا ہے یا طلبہ کو گمراہ کر رہا ہے، وہاں کارروائی کی جائے گی‘‘۔انہوں نے کہا کہ امتحان سے پہلے کئی ایسے معاملات سامنے آئے جن میں لوگوں سے سوالیہ پرچہ فراہم کرنے کے نام پر او ٹی پی مانگ کر ان کے بینک کھاتوں سے رقم نکالی گئی۔
سنگھ نے کہا’’ہم نے ایسے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی ہے اور ہماری پالیسی بالکل واضح ہے کہ امتحانی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی‘‘۔
واضح رہے کہ نیٹ۔یو جی۲۰۲۶؍امتحان۳ مئی کو ملک کے۵۵۱ شہروں اور بیرون ملک۱۴شہروں میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں تقریباً۲۳ لاکھ امیدواروں نے شرکت کیلئے رجسٹریشن کرائی تھی۔
اس دوران مرکزی تفتیشی بیورو نے منگل کو میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ۔یو جی۲۰۲۶کے مبینہ پرچہ لیک معاملے میں باضابطہ مقدمہ درج کر لیا۔
حکام کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے معاملہ سپرد کئے جانے کے فوراً بعد مرکزی تفتیشی بیورو نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
حکام نے بتایا کہ ایجنسی جلد ہی راجستھان روانہ ہونے کیلئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے گی تاکہ ریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ سے تحقیقات سے متعلق مواد حاصل کیا جا سکے، جو پہلے سے اس معاملے کی جانچ کر رہا تھا۔
مرکزی تفتیشی بیورو اس سے قبل۲۰۲۴کے نیٹ پرچہ لیک معاملے کو بھی حل کر چکا ہے۔مرکزی حکومت نے امتحان سے جڑے مبینہ پرچہ لیک الزامات کی’جامع تحقیقات‘کیلئے یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کیا ہے۔
واضح رہے کہ نیٹ۔یو جی۲۰۲۶؍امتحان ملک کے۵۵۱شہروں اور بیرون ملک۱۴مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔
اس امتحان کیلئے تقریباً۲۳ لاکھ امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی جبکہ قومی امتحانی ایجنسی نے ملک بھر میں مختلف مراکز پر امتحان کا انعقاد کیا تھا










