گجرات اور بہار میں شراب پر پابندی کیوںہے ؟التجا کا سوال
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۱مئی
بی جے پی جموں و کشمیر کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے پیر کے روز کہا کہ صرف قوانین بنا کر شراب نوشی کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا، اور شراب و منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے بیداری پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کول نے کہا کہ شراب اور منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے عوامی بیداری مہمات ضروری ہیں، کیونکہ صرف قانون سازی کے ذریعے ان برائیوں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
کول نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حکومتیں قوانین کے ذریعے شراب نوشی پر مکمل پابندی لگانے میں ناکام رہی ہیں۔
بی جے پی لیڈر نے کہا’’شراب اور منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے بیداری ضروری ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ صرف قوانین لا کر لوگوں کو شراب نوشی سے مکمل طور پر روک دے۔ جہاں جہاں اس طرح کے قوانین نافذ کیے گئے، وہاں حالات مزید خراب ہوئے ہیں‘‘۔
وزیر سکینہ ایتو کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کول نے کہا کہ انسدادِ منشیات مہم کا آغاز جموں میں ہوا تھا، جسے بعد میں کشمیر تک توسیع دی گئی، اور اسے مذہبی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
بی جے پی رہنما نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد میں خوف پیدا کرنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
کول نے کہا’’یہ ضروری ہے، اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو یہ کیسے رکے گا؟ ان لوگوں میں خوف پیدا نہیں ہوگا اور وہ ہمارے مستقبل کو تباہ کر دیں گے۔‘‘
دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس مؤقف کو غیر منطقی قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی اس لیے نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ ہندو مذہب میں شراب نوشی ممنوع نہیں۔
التجا نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا’’جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کا شراب کی دکانوں پر پابندی نہ لگانے سے متعلق متوقع یوٹرن منطق سے عاری ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوؤں پر شراب نوشی کی پابندی عائد کرنا غلط ہے کیونکہ ان کے مذہب میں اس کی ممانعت نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ہندو اکثریتی ریاستیں گجرات اور بہار کس طرح بغیر کسی اعتراض کے کامیابی سے شراب بندی نافذ کرنے میں کامیاب ہوئیں؟‘‘
پی ڈی پی لیڈر نے مزید کہا’’ہم جموں و کشمیر کی سیکولر شناخت پر فخر کرتے ہیں، لیکن یہ انتہائی افسوسناک اور غیر حساس بات ہے کہ اس کے وزیر اعلیٰ اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو اس بے حسی کے ساتھ نظر انداز کریں‘‘۔










