نئی دہلی، 09 مئی (یواین آئی) دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو کہا کہ دہلی حکومت دارالحکومت کے نباتیاتی اثاثوں (گرین کور) کے تحفظ اور ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
محترمہ گپتا کی قیادت میں حکومت پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ ریزرو فارسٹ قرار دیے گئے رج علاقوں میں جہاں بھی مناسب اور خالی زمین دستیاب ہوگی، وہاں بڑے پیمانے پر مقامی اور ماحول دوست اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی حکومت نے انڈین فارسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 20 کے تحت سینٹرل رج ایریا کے تقریباً 673.32 ہیکٹر رقبے کو ریزرو فارسٹ قرار دے دیا ہے۔ یہ علاقہ محکمہ جنگلات کے مغربی فارسٹ ڈویژن کے ماتحت ہے۔ ریزرو فارسٹ کا یہ علاقہ سردار پٹیل مارگ اور راشٹرپتی بھون اسٹیٹ کے آس پاس کے حصوں سے جڑا ہوا ہے۔ دہلی حکومت کا یہ فیصلہ دارالحکومت کے قدرتی ورثے، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کے ماحولیاتی طور پر حساس رج علاقوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا معاملہ کئی دہائیوں سے زیر التوا تھا۔ ہماری حکومت نے عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ سینٹرل رج ایریا کے تقریباً 673.32 ہیکٹر رقبے کو ریزرو فارسٹ قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ، سبزہ زار کی توسیع اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور متوازن مستقبل کو یقینی بنانے کے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینٹرل رج ایریا کو ریزرو فارسٹ قرار دیے جانے کے ساتھ ہی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ایک اہم عمل اب مکمل ہو گیا ہے۔ سال 1994 میں رج ایریاز کے لیے ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے باوجود طویل عرصے تک انہیں حتمی قانونی تحفظ نہیں مل سکا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس سمت میں ٹھوس پہل کرتے ہوئے سینٹرل رج ایریا کو انڈین فارسٹ ایکٹ 1927 کی دفعہ 20 کے تحت ریزرو فارسٹ قرار دے کر ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سینٹرل رج ایریا دارالحکومت کے وسط میں واقع ہے اور یہ اپر رج روڈ کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی رج، قدیم اراولی پہاڑی سلسلے کی توسیع ہے اور اسے دارالحکومت کے ‘گرین لنگز’ (سبز پھیپھڑے) مانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ ہوا کے معیار کو بہتر بنانے، حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھنے، زیر زمین پانی کی سطح کو مضبوط بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی و شہری آلودگی کے مضر اثرات کو کم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریزرو فارسٹ قرار دیے گئے رج علاقوں میں جہاں بھی مناسب اور خالی زمین دستیاب ہوگی، وہاں بڑے پیمانے پر مقامی اور ماحول دوست اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔ ان میں نیم، پیپل، شیشم، جامن، املی اور آم جیسے درخت شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد صرف ہریالی بڑھانا نہیں ہے بلکہ رج علاقوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کرنا اور زمین کی زرخیزی و قدرتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔










