مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننا ملک کی کامیابی بھی ہوگی کیونکہ یہ ایک حساس ریاست ہے:رجیجو
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۹مئی
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے ہفتہ کو کہا کہ مردم شماری کے بعد بھارت میں مسلم آبادی ممکنہ طور پر انڈونیشیا کی آبادی کے تقریباً برابر ہو سکتی ہے۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نے یہاں ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ملک میں مسلم آبادی ممکنہ طور پر انڈونیشیا کی آبادی کے قریب پہنچ جائے گی۔ جب مردم شماری کے اعداد و شمار سامنے آئیں گے تو غالب امکان یہی ہوگا‘‘۔
رجیجونے کہا کہ چونکہ آخری مردم شماری۲۰۱۱ میں ہوئی تھی اور۲۰۲۱ میں دس سالہ مردم شماری کا عمل انجام نہیں دیا جا سکا، اس لیے آبادی میں اضافہ ہوا ہوگا۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا’’جو بھی تعداد کسی بھی برادری کی ہو، سب ہندوستانی ہیں‘‘۔
پارسی برادری کی کم ہوتی آبادی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ان کی تعداد تقریباً۵۲ ہزار سے۵۵ہزار کے درمیان رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارسی بھارت کی سب سے چھوٹی اقلیتی برادری ہیں اور حکومت ان کے تحفظ اور ان کی آبادی میں مزید کمی کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
رجیجو نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ملک میں اقلیتیں خطرے میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ سیاسی تنظیمیں مسلمانوں اور عیسائیوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ آئین کے سامنے تمام شہری برابر ہیں اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننا ملک کی کامیابی بھی ہوگی کیونکہ یہ ایک حساس ریاست ہے جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے، جہاں سے بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن داخل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں بی جے پی کی کامیابی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
رجیجو نے کہا کہ پارٹی طویل عرصے سے غیر قانونی ہجرت کے مسئلے پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہے اور نئی ریاستی حکومت اس مسئلے کے مؤثر حل میں مددگار ثابت ہوگی۔
مرکزی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی سابقہ حکومت نے بعض مرکزی اسکیموں کو نافذ نہیں کیا، جن میں نیشنل ای ودھان ایپلیکیشن کی مثال بھی شامل ہے، اور کہا کہ اب مرکزی حکومت ان اسکیموں کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔










