آپریشن سندو ردہشت گردی کیخلاف اور قومی سلامتی کے تحفظ کے تئیں ملک کے عزم کی توثیق کرتا ہے:وزیر اعظم
’ اس آپریشن نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور باہمی ہم آہنگی کی طاقت اور اشتراک کو اجاگر کیا‘
ایجنسیز
نئی دہلی؍۷مئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ آپریشن سندور دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط جواب کی عکاسی کرتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے تئیں ملک کے عزم کی توثیق کرتا ہے۔
آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے مسلح افواج کی ’’بے مثال جرات، درستگی اور عزم‘‘ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا ’’ایک سال قبل ہماری مسلح افواج نے آپریشن سندور کے دوران بے مثال جرات، درستگی اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پہلگام میں بے گناہ بھارتیوں پر حملہ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ پوری قوم ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس آپریشن نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور باہمی ہم آہنگی کی طاقت کو اجاگر کیا۔
مودی نے کہا کہ اس نے تینوں افواج کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراک کو بھی ظاہر کیا اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی جانب بھارت کی کوششوں کے فوائد کو نمایاں کیا۔
وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ بھارت دہشت گردی اور اس کے معاون ڈھانچے کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر بدستور قائم ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج ایک سال بعد بھی ہم دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کے معاون ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح ثابت قدم ہیں۔‘‘
دریں اثنا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ آپریشن سندور بھارت کا ایک ’’تاریخی مشن‘‘ ہے جو ہمیشہ ملک کے دشمنوں کو مسلح افواج کی ناقابلِ شکست حملہ آور طاقت کی یاد دلاتا رہے گا۔
آپریشن کی پہلی برسی پر ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ تاریخ اسے اُس دن کے طور پر یاد رکھے گی جب مسلح افواج کی درست حملہ آور طاقت، ملک کی ایجنسیوں کی باریک بین انٹیلی جنس اور مضبوط سیاسی عزم نے متحد ہو کر سرحد پار دہشت گردی کے ہر اُس ٹھکانے کو تباہ کیا جس نے پہلگام میں شہریوں پر بری نظر ڈالنے کی جرات کی تھی۔
شاہ نے کہا، ’’یہ دن ہمارے دشمنوں کو مسلسل یہ خوفناک پیغام دیتا رہے گا کہ وہ کہیں بھی چھپ جائیں، بچ نہیں سکتے۔ وہ ہمیشہ ہماری نگاہوں اور ہماری آگ برساتے ہتھیاروں کی زد میں ہیں۔ اس دن میں اپنی افواج کی بے مثال بہادری کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ’آپریشن سندور‘گزشتہ سال۷؍اور۸مئی کی درمیانی شب پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس میں زیادہ تر سیاحوں سمیت۲۶شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے تحت پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر اور اس سے آگے متعدد دہشت گرد تربیتی مراکز اور بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ حملے میزائلوں، فضائی طاقت، ڈرونز اور توپ خانے کے مربوط استعمال کے ذریعے کیے گئے تھے، جن کا مرکز لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے گروپوں سے وابستہ کیمپ تھے۔
حکام نے اس کارروائی کو انتہائی درست اور خفیہ معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ضمنی نقصان کو کم سے کم رکھتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا پیغام دینا تھا۔










