نئی دہلی، یکم مئی (یواین آئی ) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا ایم پی پی سنتوش کمار نے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 993 روپے فی سلنڈر کے اضافے پر مرکزی حکومت کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ یہ اضافہ حکومت کی "ناکام سفارتی خارجہ پالیسی” کا براہ راست نتیجہ ہے، جو عالمی توانائی کے عدم استحکام کے درمیان ہندوستان کے قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایندھن کی سپلائی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے بجائے حکومت کی پالیسیوں نے ملک کو غیر محفوظ صورتحال میں چھوڑ دیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر اب ریستوراں، ڈھابوں، چھوٹے بھوجنالیوں، ہوسٹل، پی جی رہائش اور دیگر چھوٹے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ اس اضافے کا فوری اثر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں اور گزر بسر کے اخراجات میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا، جس سے عام لوگ سب سے زیادہ متاثر ہونگے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹنگ کے ٹھیک ایک دن بعد ہونے والا یہ اضافہ ان کی پارٹی کی اس وارننگ کو درست ثابت کرتا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی ایل پی جی اور دیگر ایندھن کے دام بڑھائے جائیں گے۔ سی پی آئی کے مطابق، حکومت کی توجہ عوام کی بہبود پر نہیں بلکہ انتخابی امیج پر مرکوز ہے۔ پارٹی نے کہا، "جیسے ہی ووٹنگ ختم ہوتی ہے، حکومت کا اصلی چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور بوجھ عام لوگوں پر ڈال دیا جاتا ہے”۔
مسٹر کمار نے اس قدم کو "شرمناک” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ایسی عوام مخالف پالیسیوں کی ملک بھر میں مخالفت کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس اضافے کو واپس لے اور عام لوگوں کو راحت فراہم کرے۔










