۲۰۱۹کے بعد اس خطے میں تیز رفتار تبدیلی‘ سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں میں وسیع ترقی ہوئی ہے : وزیر داخلہ
’یو ٹی بنانا اس خطے کے لوگوں کی ایک دیرینہ مانگ تھی ‘اب لداخ میں ۷ اضلاع اور ۱۹۳پنچائتیں بنائیں گئی ہیں ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر/ یکم مئی
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کے روز کہا کہ۲۰۱۹ میں جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں تیز رفتار تبدیلی آئی ہے اور اسے ایک مثالی خطہ قرار دیتے ہوئے سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں میں وسیع ترقی کا ذکر کیا۔
شاہ نے کہا کہ یہ خطہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کے مرکز میں رہا ہے۔
امیت شاہ نے کہا کہ لداخ طویل عرصے سے ترقی کی کمی کے باعث یونین ٹیریٹری کا درجہ مانگ رہا تھا اور اس فیصلے کے بعد مختلف شعبوں میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب لہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے) کی جانب سے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبات کے حوالے سے مرکز کے ساتھ بات چیت بحال کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا’’لداخ کی ایک پرانی مانگ تھی کہ اسے یونین ٹیریٹری بنایا جائے، کیونکہ یہاں ترقی نہیں ہو رہی تھی۔ اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ۲۰۱۹میں یو ٹی بننے کے بعد یہاں کیا کچھ کیا گیا ہے‘‘۔
شاہ نے بتایا کہ لداخ میں اب سات اضلاع اور۱۹۳ پنچایتیں ہیں، جبکہ پانچ نئے اضلاع شام، نوبرا، چانگتھانگ، زنسکار اور دراس—قائم کیے گئے ہیں اور ان کے نوٹیفکیشن جاری ہو چکے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مقامی زبانوں کو بھی انتظامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ’’پہلے صرف ہندی اور انگریزی استعمال ہوتی تھیں، مگر اب بھوٹی، پورگی اور اردو کو بھی اہمیت دی گئی ہے‘‘۔
انفراسٹرکچر کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ۲۰۱۹سے پہلے لداخ میں سڑکوں کی لمبائی تقریباً۱۷۹۹ کلومیٹر تھی جو اب بڑھ کر۴۰۴۰کلومیٹر ہو گئی ہے۔ ’’سڑکوں کی تعمیر تقریباً دوگنی ہو گئی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ پلوں کی تعداد۱۹سے بڑھ کر۷۲ہو گئی ہے، یعنی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
دیگر شعبوں میں ترقی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موبائل ٹاورز کی تعداد۳۴۴سے بڑھ کر۶۵۳ہو گئی ہے، جبکہ ہیلی پیڈز کی تعداد سات سے بڑھ کر۴۱ہو گئی ہے۔’’برف ہٹانے والی مشینوں کی تعداد۶۰سے بڑھ کر۲۱۵ہو گئی ہے، جو اس خطے کے لیے انتہائی اہم ہیں‘‘۔
بجلی کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ گرڈ سے متعلق کام۱۴۵سے بڑھ کر۱۸۴ہو گئے ہیں، جبکہ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی تعداد۱۱۸۲سے بڑھ کر۳۱۵۳ہو گئی ہے۔
شاہ نے کہا’’میں یہ اعداد و شمار اس لیے پیش کر رہا ہوں کیونکہ یونین ٹیریٹری بننے کے بعد لداخ وزیر اعظم نریندر مودی کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے اور یہاں ایک ساتھ کئی ترقیاتی کام ہوئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بہتر انفراسٹرکچر کا اثر سڑک رابطوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔ زوجیلا پاس، جو پہلے۱۲۷دن تک بند رہتا تھا، اس سال صرف۱۹دن بند رہا، جبکہ کرگل،لہہ سڑک جو پہلے تقریباً۱۷۵دن بند رہتی تھی، اب صرف۱۱دن بند رہی۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ زوجیلا ٹنل پر کام جاری ہے، شنکن لا ٹنل کی تعمیر شروع ہو چکی ہے اور ایک نیا سول ہوائی اڈہ بھی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام پنچایتوں تک وی سیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے اور ٹیلی کام ٹاورز کو اپ گریڈ کرنے کا بڑا کام کیا گیا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں انہوں نے کہا کہ سندھُو سنٹرل یونیورسٹی قائم کی گئی ہے‘۱۷۴آئی سی ٹی لیبز‘۱۳۰ اسمارٹ کلاس رومز‘۴۰سائنس لیبارٹریز اور۲۴؍ اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ۲۰۲۴میں مکمل طور پر خواندہ انتظامی یونٹ بن گیا ہے اور اب یہاں کوئی ناخواندہ شخص باقی نہیں رہا۔
شاہ نے کہا کہ ’ہر گھر جل‘ اسکیم کے تحت تقریباً۹۸ فیصد گھروں کو نل کے ذریعے پانی فراہم کیا گیا ہے، جبکہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں بھی نمایاں کام ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ لداخ کا بجٹ جو پہلے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے تھا، اب بڑھ کر چھ ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے سندھُو انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ آئندہ برسوں میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرحدی خطہ خود کفیل بنے‘‘، اور زور دیا کہ یہ ترقی وزیر اعظم کے وژن کا نتیجہ ہے۔










