ایجنسیز
سرینگر؍ یکم مئی
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر ’انڈیا بلاک ‘، خاص طور پر کانگریس کی جانب سے ’متوقع جوش و جذبے کے ساتھ حمایت نہ کرنے‘پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت اس اتحاد کی ایک پُرعزم رکن ہے، تاہم یہ اتحاد اپنی صلاحیتوں پر پورا نہیں اتر سکا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے مسائل پر ایک مضبوط اور متحدہ حکمت عملی کی کمی کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔
فاروق عبداللہ نے کہا’’یہی ہماری اس قومی اتحاد سے سب سے بڑی شکایت رہی ہے… ہمیں امید تھی کہ وہ ہمارے مقصد کے لیے زیادہ قوت کے ساتھ لڑیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ بڑی جماعت کانگریس نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی ہم توقع رکھتے تھے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے اتحاد پر زور دیا کہ وہ صرف انتخابی اتحاد نہ رہے بلکہ زیادہ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے تاکہ ملک کے ’نظرانداز‘ مستقبل کے مسائل پر توجہ دی جا سکے۔انہوں نے کہا’’یہ بالکل واضح ہے کہ ہم بی جے پی کا حصہ نہیں ہیں اور کبھی نہیں ہوں گے۔ ہم ’انڈیا بلاک‘ کا حصہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ انتخابات کے بعد اتحاد دوبارہ اکٹھا ہوگا اور قومی مسائل کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کے مسئلے کو بھی زیادہ مضبوطی سے اٹھائے گا‘‘۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ انڈیا بلاک کے اجلاسوں کا باقاعدہ انعقاد ’انتہائی ضروری‘ ہے کیونکہ یہ اتحاد صرف انتخابات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے ہے، جسے بعض اوقات نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
جمہوری صورتحال اور نوجوان قیادت کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اب تک ایسا رہنما سامنے نہیں لا سکی جو وزیر اعظم نریندر مودی کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے ساتھ زیادہ مضبوط رابطہ قائم کریں،’ایئر کنڈیشنڈ دفاتر سے باہر نکلیں‘اور عام آدمی کے مسائل کو قریب سے سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی سیاست۵۰سال پہلے کی سیاست سے بہت مختلف ہے اور اب ’’ہمارے پاس گاندھی، نہرو یا اندرا جیسے لیڈر نہیں ہیں‘‘۔
حکمران جماعت کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے بعد مرکز جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی پر فیصلہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں ریاستی درجے کی بحالی کے لیے پُرعزم ہیں، تاہم اس کی کوئی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ارکان پارلیمنٹ کو بھی اس حوالے سے یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔
داکٹر فاروق نے کہا کہ اگر یہ وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے تو نیشنل کانفرنس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر پیش رفت نہ ہوئی تو منطقی نتیجہ یہی ہوگا کہ ہم عدالت سے رجوع کریں‘‘۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دسمبر۲۰۲۳ میں ہدایت دی تھی کہ جموں و کشمیر کو ’جلد از جلد‘ ریاستی درجہ واپس دیا جائے۔
فاروق عبداللہ نے مرکز کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ حکومت سے حکومت کے تعلقات برقرار ہیں اور حال ہی میں دیہی سڑکوں کے لیے ایک اچھا پیکیج بھی دیا گیا ہے، جبکہ دیگر زیر التوا مسائل بھی بتدریج حل کیے جائیں گے۔
تقریباً پانچ دہائیوں کے سیاسی تجربے کے حامل فاروق عبداللہ نے نوجوان قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دیانت داری کے ساتھ کام کریں اور عوام کو دھوکہ نہ دیں کیونکہ عوام حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ غربت اور جہالت کے خاتمے پر توجہ مرکوز رکھیں، چاہے مختلف سمتوں سے آنے والی رکاوٹیں ان کے راستے کو متاثر کرنے کی کوشش کیوں نہ کریں۔










