ایل جی سنہا کاڈوڈہ میں نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم کا آغاز
ّڈی آئی پی آر)
جموں؍۳۰؍اپریل
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج ضلع ڈوڈہ میں ’نشہ مُکت جموں و کشمیر‘ مہم کا آغاز کرتے ہوئے عوام کو منشیات کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف عوامی تحریک لوگوں کے عزم اور اتحاد کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ لعنت اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب معاشرہ ایک آواز بن کر اس کے خلاف کھڑا ہو۔انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردی سے کم نہیں اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔
ایل جی کاکہنا تھا’’میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ منشیات کا استعمال ایک خاموش دہشت گردی ہے، صرف قانون و نظم کا مسئلہ نہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ دراصل بھیس بدلی ہوئی دہشت گردی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ خطرہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ کرتا ہے، خاندانوں کو کمزور بناتا ہے اور معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں منشیات فروشوں کے ساتھ قانون کے تحت وہی سلوک کیا جائے گا جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ معاشرے، انسانیت اور ہمارے نوجوانوں کے دشمن ہیں۔ ہم اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہر اسمگلر، ہر مقامی پیڈلر اور ہر اس نیٹ ورک کے رکن کو، جو معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہے، شناخت کر کے جیل میں ڈالا جائے گا۔
سنہا کے مطابق’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک اس زہر کو پھیلانے والے نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہ کر دیے جائیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ مہم ایک بڑا چیلنج ہے اور اس میں کامیابی کے لیے مسلسل محنت درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ۱۰۰روزہ مہم میں سے۸۰دن باقی ہیں اور ہر دن انتہائی اہم ہے۔ان کاکہنا تھا’’ہر لمحہ مقصد کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے اور ہر شہری کو اس جن آندولن کا حصہ بننا ہوگا۔ مل کر ہم جموں و کشمیر کو ایک مثال بنا سکتے ہیں—ایک ایسا معاشرہ جو منشیات کی لعنت سے پاک ہو‘‘۔
ایل جی نے’جن بھاگیداری‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ صرف حکومت نہیں جیت سکتی بلکہ معاشرے کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
سنہا نے کہا’’بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ میرا مسئلہ نہیں، لیکن یہ سوچ بدلنی ہوگی۔ منشیات فروش عوام کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک نشہ مُکت معاشرہ وہی بناتا ہے جو اس برائی کے خلاف کھڑا ہو، چاہے وہ براہِ راست متاثر نہ بھی ہو‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ عوامی تعاون سے گزشتہ۲۰ دنوں میں تقریباً۳۵۰؍ایف آئی آر درج کی گئیں اور۴۴۰ منشیات فروش گرفتار کیے گئے۔ انہوں نے اسکولوں، کالجوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا سے بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ان کاکہنا تھا’’جب معاشرہ چوکس ہوتا ہے تو وہ دراندازی کو روک سکتا ہے، اور جب لوگ بیدار ہوں تو نشہ پھیل نہیں سکتا۔‘‘










