ایجنسیز
سرینگر؍۲۵؍اپریل
جموں کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر (سی آئی کے) یونٹ نے ہفتہ کے روز ایک دہشت گردی سے متعلق کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سرینگر سینٹرل جیل کے اندر تلاشی کارروائی انجام دی، جس کے دوران ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ تلاشی اسپیشل کورٹ (این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد)، سرینگر کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر کی گئی۔
یہ کارروائی۲۰۲۳میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی تھی، جو تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات کے ساتھ یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات۱۳؍اور۳۹کے تحت پولیس اسٹیشن سی آئی کشمیر میں درج ہے۔
پولیس نے بتایا کہ قابلِ اعتماد تکنیکی معلومات کی بنیاد پر، جن سے جیل کے اندر مشتبہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کے آثار ملے تھے، جیل حکام کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے مختلف بلاکس اور بیرکس میں تلاشی لی گئی۔
کارروائی کے دوران ایسے ڈیجیٹل مواصلاتی آلات برآمد اور ضبط کیے گئے جو تحقیقات سے متعلق اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ ان آلات کا تفصیلی فرانزک معائنہ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ روابط کا پتہ لگایا جا سکے اور کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
اسی دوران تحقیقاتی ایجنسی اس سکیورٹی خامی کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کے باعث ایسے آلات کو اس ہائی سکیورٹی جیل میں داخل کیا جا سکا۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونین کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
یہ آپریشن اہم شواہد اکٹھا کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور حساس سکیورٹی مقامات، خصوصاً جیلوں میں مواصلاتی آلات کے غلط استعمال کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنا بھی ہے، جس کے لیے دہشت گردوں کے معاونین اور اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔










