پہلگام؍۲۱؍اپریل
جیسے جیسے سیاح پہلگام کا رخ کر رہے ہیں، سیاحوں کی مجموعی تعداد بدستور کم ہے کیوں کہ کئی اہم مقامات اب بھی بند ہیں، جن میں بائسرن چراگاہ بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ سال دہشت گردوں نے۲۵سیاحوں اور ایک مقامی شہری کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس بندش کی وجہ سے سیاحوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے۔
۲۲ ؍اپریل کے اس حملے نے نہ صرف۲۶ جانیں لیں بلکہ ہندوستان اور پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں، لیکن پہلگام سے تقریباً کلومیٹر دور واقع بائسرن چراگاہ، جسے’منی سوئٹزرلینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، کی مسلسل بندش نے مسافروں کے حوصلے بحال کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔
بائسرن ان درجنوں سیاحتی مقامات میں شامل تھا جنہیں گزشتہ سال دہشت گردانہ حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا، جن میں سے بہت سے مقامات گزشتہ ایک سال کے دوران دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
اس مشہور سیاحتی مقام کے داخلے پر، حکومت نے ایک یادگار نصب کی ہے جس میں گزشتہ سال کے حملے میں ہلاک ہونے والے تمام۲۶؍ افراد کے نام درج ہیں، جن میں مقامی رہائشی عادل شاہ کا نام۲۲ویں نمبر پر ہے۔ پہلگام آنے والے سیاح یہاں تصاویر کھنچواتے ہیں، نام پڑھتے ہیں اور پھر دریائے لڈر کی طرف بڑھ جاتے ہیں، جو پہلگام کی وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور پھر سیر و تفریح کے بعد وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
پہلگام ٹیکسی ڈرائیورز یونین کے صدر غلام نبی نے کہا ’’سیاح واپس تو آ رہے ہیں، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ رات کو قیام نہیں کر رہے۔ اگر وہ یہاں نہیں رکیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ گھڑ سواری یا ٹیکسی کی خدمات استعمال نہیں کریں گے اور ہوٹلوں میں بھی کوئی بکنگ نہیں ہوگی‘‘۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال چار لاکھ سے کچھ زیادہ سیاحوں نے پہلگام کا دورہ کیا، جو کہ سالانہ۱۲سے۱۵لاکھ کی معمول کی تعداد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے۔ متعلقہ افراد اس کمی کی بڑی وجہ بائیسرن اور دیگر قریبی مقامات کی مسلسل بندش کو قرار دیتے ہیں۔
ایک اور مقامی تاجر نے بتایا ’’برسوں سے بائسرن کبھی بند نہیں رہا تھا۔ اسے صرف گزشتہ سال کے حملے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ ہم حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں سے اس علاقے کو محفوظ بنا کر دوبارہ کھولنے کی درخواست کر رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ زیادہ تر سیاح خاص طور پر بائیسرن کے لیے آتے ہیں اور جب وہ اسے بند پاتے ہیں تو مختصر دورے کے بعد چلے جاتے ہیں‘‘۔
تاجر نے ایک اور بڑے پرکشش مقام ’چندن واڑی‘ کی بندش کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو اہم مقامات بند ہوں گے تو سیاح پہلگام میں کیوں رکیں گے؟ اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔بیتاب ویلی مرکزی پہلگام کے باہر واحد مقام ہے جو فی الحال کھلا ہوا ہے۔
پہلگام۵۰۰۰ سے زائد گھوڑے والوں کا گھر بھی ہے، جو گزشتہ سال کے دہشت گردانہ حملے کے باعث ہوٹل مالکان کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل رہے۔
سکیورٹی اقدامات کے حصے کے طور پر، پہلگام پولیس نے وہاں کام کرنے والے افراد بشمول ٹیکسی ڈرائیوروں، گھوڑے والوں اور ہوٹل کے عملے کو کیو آر کوڈز جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق، اب تک تقریباً۷۰۰۰؍ افراد کو ان کے بیک گراؤنڈ ویریفکیشن کے بعد کیو آر کوڈز دیے جا چکے ہیں۔ یہ کیو آر کوڈ کسی بھی شخص کو متعلقہ فرد کی سابقہ معلومات اور شناخت جاننے میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس مشق کا ہدف پہلگام میں کام کرنے والے۲۵ہزارافراد کا اندراج کرنا ہے۔ یہ ملک کا واحد مقام ہے جہاں کیو آر پر مبنی شناخت دیگر تمام شناختی ذرائع بشمول شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات کی جگہ لے رہی ہے۔
پونی والا ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوحید وانی نے کہا’’ ہم خوش ہیں کہ حکومت نے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بائسرن ویلی اور اس کے قریبی دیگر وادیوں کی بندش نے سیاحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔‘‘
ایک مقامی ہوٹل مالک نے بتایا کہ گزشتہ تین مہینوں سے سیاحوں کی آمد کے حوالے سے صورتحال بہتر ہونا شروع ہوئی ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بائیسرن ویلی کی بندش سے اچھا پیغام نہیں جا رہا۔
پہلگام کا سفر کرنے والے سیاح بھی اس بات پر بضد ہیں کہ بائسرن کو کھولا جانا چاہیے۔ ممبئی سے آنے والے ایک سیاح نے کہا کہ ’’میں ممبئی سے پہلگام کی سیر کے لیے آیا ہوں۔ میں کسی چیز سے نہیں ڈرتا، لیکن بائیسرن چراگاہ کو بند دیکھ کر دکھ ہوا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کچھ سیر و تفریح کے بعد شام کو واپس سری نگر چلے جائیں گے۔
بائسرن جانے والے راستے پر سکیورٹی فورسز نے ناکے لگا رکھے ہیں اور کسی کو بھی ایک مخصوص مقام سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔










