ایجنسیز
سرینگر؍۲۰؍اپریل
انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے پیر کے روز پہلگام میں غذائی اجناس کی خردبرد کے ایک کیس میں پانچ سابق اسٹور کیپرز کو مجرم قرار دلوا دیا، جبکہ ایک علیحدہ معاملے میں کپواڑہ کے سابق بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) اور چار دیگر کے خلاف سرکاری فنڈز کی خردبرد کے الزام میں چارج شیٹ دائر کی گئی۔
جاری بیان کے مطابق خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی عدالت اننت ناگ محترمہ مسرت روہی نے درج ذیل افراد کو مجرم قرار دیا: عبدالخالق شاہ، غلام نبی میر، محمد شفیع راتھر، غلام حسن حجام اور مظفر احمد بیچو، جو اس وقت فوڈ اینڈ سپلائز محکمہ کے تحت مختلف مراکز میں بطور اسٹور کیپر تعینات تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ ملزمان کو ایف آئی آر نمبر۰۹/۱۹۹۰کے تحت دفعہ۵(۲)جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ۲۰۰۶مع دفعہ ۴۰۹آر پی سی کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ان اسٹور کیپرز نے اپریل۱۹۸۹سے۱۱ستمبر۱۹۸۹کے درمیان غذائی اجناس اور خالی بوروں کی خردبرد کی۔یہ کیس اس وقت درج کیا گیا جب فوڈ اینڈ سپلائز محکمہ سری نگر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے 2 نومبر ۱۹۸۹و شکایت درج کرائی گئی، جس میں تقریباً۳لاکھ ۶۴ روپے کی خردبرد کی نشاندہی کی گئی تھی۔
تحقیقات مکمل ہونے کے بعد۹ستمبر۲۰۰۳کو چارج شیٹ دائر کی گئی اور۲۰؍اپریل۲۰۲۶کو عدالت نے شواہد کی بنیاد پر تمام پانچوں ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔ سزا کے تعین کے لیے کیس کو۲۴؍ اپریل۲۰۲۶تک کے لیے ملتوی کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ عوامی خدمات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اے سی بی کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک اور کیس میں اے سی بی نے کپواڑہ کے سابق بی ڈی او عبدالماجید گنی، جونیئر اسسٹنٹ بشیر احمد میر، ایم آئی ایس او/جی آر ایس سجاد احمد ڈار اور دو نجی افراد ذاکر حسین پیر اور گوہر یعقوب خان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے ملی بھگت سے سرکاری فنڈز کی خردبرد کے لیے فرضی ریکارڈ تیار کیے اور الیکٹرانک ڈیٹا میں رد و بدل کیا۔
مزید یہ کہ جعلی فنڈ ٹرانسفر آرڈرز تیار کر کے رقم غیر مجاز بینک کھاتوں، بشمول رشتہ داروں اور ساتھیوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی۔
تحقیقات کے دوران دوہری ادائیگیوں، غیر موجود کاموں کے عوض ادائیگی اور مزدوروں کی ادائیگی کو جاب کارڈ ہولڈرز کے ذریعے گھما کر خردبرد کرنے جیسے معاملات بھی سامنے آئے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ کو دانستہ طور پر ضائع یا چھپایا گیا جبکہ اہم الیکٹرانک شواہد بھی فراہم نہیں کیے گئے تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔
ملزمان نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری خزانے کو۴لاکھ۸۶ہزار۱۷۰ روپے کا نقصان پہنچایا اور خود و اپنے ساتھیوں کو ناجائز فائدہ پہنچایا۔
تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات اور آر پی سی کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور کیس ایف آئی آر نمبر۱۱/۲۰۲۱ کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔










