(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۷؍اپریل
ایشیا کے سب سے بڑے اور وادی کے اہم سیاحتی مقام اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن میں اس سال سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں گزشتہ برس کے مقابلے میں۵۰فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔
حکام نے جمعہ کو بتایا کہ گزشتہ سال باغ میں ریکارڈ۸لاکھ ۵۵ہزارلاکھ سیاح آئے تھے، تاہم اس سال یہ تعداد گھٹ کر صرف۳لاکھ۹۰ہزارلاکھ رہ گئی، جن میں تقریباً۱۲۰۰غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
انچارج اسسٹنٹ فلوری کلچر آفیسر عمران احمد نے بتایا،’’اس سال۳لاکھ۹۰ہزارسیاحوں نے ٹیولپ گارڈن کا دورہ کیا، جن میں۱۲۲۲غیر ملکی اور۲لاکھ۸۹ہزار ملکی سیاح شامل تھے، جبکہ تقریباًایک لاکھ ۶۰ ہزار لاکھ مقامی افراد نے بھی باغ کا رخ کیا‘‘۔
موسم بہار کے دوران ایک اہم سیاحتی مرکز مانے جانے والے اس باغ کو جمعرات کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا کیونکہ پھولوں کا موسم اختتام پذیر ہو چکا ہے۔
ڈل جھیل کے کنارے واقع اس باغ کو۱۶ مارچ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عوام کے لیے کھولا تھا، جو کہ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث جلد کھلنے والے پھولوں کی وجہ سے طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ پہلے کھولا گیا تھا۔
یہ باغ۲۰۰۸میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کشمیر کے سیاحتی نقشے پر شامل کیا تھا تاکہ بہار کے نسبتاً کم سیاحتی سیزن میں بھی سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔ اس سال باغ میں۷۰سے زائد اقسام کے ٹیولپس کی نمائش کی گئی، جبکہ فلوری کلچر محکمہ نے خوبصورتی بڑھانے کے لیے بلبس کی کثافت میں بھی اضافہ کیا تھا۔
گزشتہ سال یہ باغ اپریل میں اُس وقت بند کیا گیا تھا جب پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد نے اپنے دورے منسوخ کر دیے یا ادھورے چھوڑ دیے۔ حکام کے مطابق۲۰۲۴میں باغ میں۴لاکھ۴۵ہزار‘۲۰۲۳ میں۳لاکھ۷۵‘۲۰۲۲ میں ۳لاکھ ۶۲ہزار اور۲۰۲۱ میں۲لاکھ۲۵ہزارسیاح آئے تھے۔
۲۰۲۰ میں کووڈ۱۹لاک ڈاؤن کے باعث باغ بند رہا تھا۔ اس سے قبل۲۰۱۹میں۲لاکھ۵۹ ہزار‘۲۰۱۸ میںایک لاکھ۹۰ہزار‘۲۰۱۷ میں ایک لاکھ ۵۰ہزار لاکھ اور۲۰۱۶ میں ایک لاکھ۷۵ہزار سیاحوں نے اس باغ کا دورہ کیا تھا۔










