’جھیل کے مؤثر تحفظ کیلئے ایک مضبوط پالیسی مرتب کی جائے اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو اپ گریڈ کیا جائے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۰؍ اپریل
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے ڈل جھیل کے رقبہ اور آبی پھیلاؤ میں نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ۲۰۰۷سے۲۰۲۰کے دوران جھیل کے کھلے پانی کا رقبہ۱۵ء۴۰مربع کلومیٹر سے گھٹ کر۱۲ء۹۱ مربع کلومیٹر رہ گیا، جو۱۳برس میں۱۰ء۱۵فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
سی اے جی نے سفارش کی ہے کہ جھیل کے مؤثر تحفظ کے لیے ایک مضبوط پالیسی مرتب کی جائے اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ جھیل میں داخل ہونے والے گندے پانی اور ٹھوس فضلے کا مناسب علاج یقینی بنایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران جہاں جھیل کے کھلے پانی اور زیرِ آب پودوں میں کمی آئی، وہیں دیگر زمینی استعمالات میں اضافہ ہوا، جن میں تیرتے پودے۵ء۲۶۲سے بڑھ کر۶ء۷۹۶مربع کلومیٹر، زرعی زمین اور شجرکاری۲ء۲۹سے بڑھ کر۲ء۸۵مربع کلومیٹر، جبکہ تعمیر شدہ رقبہ۰ء۷۴۳سے بڑھ کر۱ء۰۲۵مربع کلومیٹر ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق خالی زمین کا رقبہ بھی۰ء۴۰ سے کم ہو کر۰ء۳۶مربع کلومیٹر رہ گیا، جس کی ایک وجہ بعض حاصل شدہ زمینوں پر ڈریجنگ کا عمل بتایا گیا ہے۔ کھلے پانی میں یہ کمی دراصل دیگر زمینی استعمالات کے پھیلاؤ کی قیمت پر ہوئی ہے۔
سی اے جی نے کہا کہ زمین کے استعمال میں یہ تبدیلیاں جھیل کے ماحولیاتی نظام پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں انسانی سرگرمیوں میں اضافے نے قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے زمین کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ہی ان تبدیلیوں کی وجوہات کا مناسب تجزیہ کیا گیا۔
آڈٹ کے مطابق جھیل کی بگڑتی حالت کی وجوہات میں ڈل جھیل کے مکینوں سے زمین کا حصول نہ ہونا، ایس ٹی پیز کی ناقص کارکردگی، آلودگی کے بہاؤ کو روکنے میں ناکامی، مناسب گھاس کٹائی (ڈی ویڈنگ) کا فقدان اور نگرانی کا کمزور نظام شامل ہیں۔
نتیجتاً غذائی اجزاء کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، جس سے جھیل میں گھاس کی غیر معمولی افزائش ہوئی اور کھلے پانی کا رقبہ مزید سکڑ گیا۔ میر بہری، لتی محلہ اور ننداپورہ جیسے علاقوں میں تجاوزات نے تیرتے باغات اور رہائش گاہوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کیا۔
رپورٹ میں نیشنل لیک کنزرویشن پروگرام اور وزیر اعظم ری کنسٹرکشن پروگرام کے تحت جاری تحفظاتی منصوبوں میں بھی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا’’اہم سرگرمیاں جیسے ایس ٹی پیز کی تنصیب و اپ گریڈیشن، ٹھوس فضلہ مینجمنٹ، سیور نیٹ ورکنگ، ہاؤس بوٹس اور ہوٹلوں کی منتقلی، کیچمنٹ ایریا مینجمنٹ اور ڈل کے مکینوں کی بازآبادکاری یا تو تاخیر کا شکار رہیں یا مناسب طریقے سے انجام نہیں دی گئیں‘‘۔
۴۵ کروڑ روپے سے زائد خرچ کے باوجود سی اے جی نے پایا کہ سیوریج کا معیار کے مطابق علاج نہیں ہو رہا اور گھروں، ہاؤس بوٹس اور ہوٹلوں سے نکلنے والا گندا پانی مسلسل جھیل میں داخل ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں۲۰۱۷سے۲۰۲۲کے دوران۴۸ء۶۳کروڑ سے۲۸۰ء۶۸ کروڑ روپے تک فنڈز کے کم استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی اور تاخیر کی وجوہات میں بورڈ اجلاسوں کا نہ ہونا، پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹس کی کمی اور تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس کی عدم تیاری شامل ہیں۔
ڈل جھیل کو سری نگر کا’مائع دل‘ قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی میں موجود خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو جھیل کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔
سی اے جی نے پانی کے پھیلاؤ کی باقاعدہ نگرانی، مؤثر پالیسی سازی، ایس ٹی پیز کی کارکردگی میں بہتری، فضلے کے بہتر انتظام اور عوامی بیداری مہمات شروع کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ غیر قانونی تعمیرات اور آلودگی کو روکا جا سکے۔










