مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور مضبوط گورننس کیلئےکھاتوں کی تیاری اور جمع کرانے کیلئے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کو یقینی بنا جائے
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۸؍اپریل
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے جموں و کشمیر میں پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (پی ایس یوز) اور خود مختار اداروں کے کھاتوں کی تکمیل میں بڑے پیمانے پر تاخیر کی نشاندہی کی ہے، جہاں۳۱مارچ۲۰۲۴تک بڑی تعداد میں کھاتے زیر التوا ہیں۔
سی اے جی نے یو ٹی حکومت پر زور دیا کہ وہ کھاتوں کی تیاری اور جمع کرانے کے لیے مقررہ وقت کی سختی سے پابندی کو یقینی بنائے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور گورننس کو مضبوط کیا جا سکے۔
آڈٹ پینل نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر شفافیت اور قانون ساز نگرانی کو کمزور کرتی ہے، اور سفارش کی کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ کمپنیاں، کارپوریشنز اور خود مختار ادارے اپنے سالانہ کھاتے مقررہ مدت کے اندر جمع کریں۔
۳۱ مارچ۲۰۲۴کو ختم ہونے والے سال کے لیے یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کے مالیات پر سی اے جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے’’صرف چار کمپنیوں کے کھاتوں کا آڈٹ۲۰۲۲۔۲۳تک کیا گیا ہے۔۳۵ کمپنیوں اور کارپوریشنز کے حوالے سے۱۳۹کھاتوں کا آڈٹ ایک سے بارہ سال تک زیر التوا ہے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق، آٹھ خود مختار اداروں نے مجموعی طور پر۴۰سالانہ کھاتے جمع نہیں کرائے، جن میں تاخیر تین سے ۱۴سال تک ہے۔
سی اے جی نے زور دیا کہ کھاتوں کی تکمیل میں تاخیر کے باعث سرکاری سرمایہ کاری کے نتائج قانون ساز نگرانی سے باہر رہتے ہیں، جس سے بروقت اصلاحی اقدامات میں رکاوٹ آتی ہے اور احتساب کمزور ہوتا ہے۔
جموں و کشمیر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ۲۰۱۰۔۱۱سے۱۲زیر التوا کھاتوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے، اس کے بعد جموں و کشمیر منرلز لمیٹڈ اور دو غیر فعال کمپنیاں ‘جموں و کشمیر انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کارپوریشن لمیٹڈ اور جموں و کشمیر روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ ‘ہر ایک کے نو سال کے بقایا کھاتے ہیں۔
جموں و کشمیر کیبل کار کارپوریشن لمیٹڈ کے۲۰۱۴۔۱۵سے آٹھ کھاتے زیر التوا ہیں، جبکہ جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ کے۲۰۱۵۔۱۶سے سات کھاتے باقی ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جموں و کشمیر پولیس ہاؤسنگ کارپوریشن لمیٹڈ کے چھ سال کے بقایا کھاتے ہیں، جبکہ جموں و کشمیر ایسیٹ ری کنسٹرکشن لمیٹڈ کے بھی۲۰۱۷۔۱۸ سے چھ کھاتے زیر التوا ہیں۔
دیگر بڑے نادہندگان میں جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ شامل ہے جس کے۲۰۱۷۔۱۸ سے پانچ کھاتے باقی ہیں، جبکہ جموں و کشمیر انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (جے کے ای ڈی آئی) کے پانچ کھاتے زیر التوا ہیں اور۲۰۱۸۔۱۹ کے بعد کوئی کھاتے جمع نہیں کرائے گئے۔
کئی انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اداروں میں بھی تاخیر کی اطلاع دی گئی ہے۔ جموں اور سری نگر ماس ریپڈ ٹرانزٹ کارپوریشنز کے۲۰۱۹۔۲۰ سے چار چار کھاتے زیر التوا ہیں، جبکہ جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ، جموں و کشمیر پاور کارپوریشن لمیٹڈ اور سری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے بھی چار چار کھاتے باقی ہیں۔
جموں اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے تین کھاتے زیر التوا ہیں، جبکہ جموں و کشمیر فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے بھی تین کھاتے باقی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ متعدد کارپوریشنز، بشمول جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ اور جموں و کشمیر ہینڈی کرافٹس (سیلز اینڈ ایکسپورٹ) ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ، کے چار چار کھاتے زیر التوا ہیں۔
آٹھ خود مختار اداروں میں، سی اے جی کے مطابق کمپنسٹری افاریسٹیشن مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی کے سب سے زیادہ۱۴کھاتے۲۰۰۹۔۱۰سے۲۰۲۲۔۲۳تک زیر التوا ہیں۔
اسی طرح شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی‘ سری نگر اور جموں کے تین تین کھاتے۲۰۲۰۔۲۱سے۲۰۲۲۔۲۳تک باقی ہیں۔ جموں و کشمیر ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) نے۲۰۱۵۔۱۶سے۲۰۱۸۔۱۹تک چار کھاتے جمع نہیں کرائے۔
دیگر اداروں میں جموں و کشمیر ہاؤسنگ بورڈ (چار کھاتے)، کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ (تین)، بلڈنگ اینڈ ادر کنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ (چار)، اور اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی (پانچ) شامل ہیں جن کے کھاتے زیر التوا ہیں۔
اسی طرح فوڈ، سول سپلائز اینڈ کنزیومر افیئرز محکموں کے کشمیر اور جموں کے کھاتے دہائیوں سے زیر التوا ہیں، جن میں کچھ ادوار۱۹۷۰کی دہائی تک کے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا۔ (ایجنسیاں)










