نئی دہلی، 03 اپریل (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے دوران 16 اپریل سے خواتین ریزرویشن بل میں ترمیم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس بلا کر حکومت نے اپوزیشن کو نظر انداز کیا ہے اور من مانی کی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات (کمیونیکیشن) کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 16، 17 اور 18 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 16 مارچ کو پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو خط لکھ کر ‘ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023’ میں مجوزہ ترامیم پر بحث کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھرگے نے 15 منٹ کے اندر ہی خط کا جواب دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ الگ الگ بات چیت کرنے کے بجائے تمام اپوزیشن
جماعتوں کو ایک ساتھ مدعو کر کے کل پارٹی میٹنگ طلب کی جائے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی کہا کہ اگر حکومت خواتین ریزرویشن بل میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تو اس پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ضروری ہے اور اس کے لیے کل پارٹی میٹنگ سب سے موزوں پلیٹ فارم ہوگا۔ کانگریس لیڈر کے مطابق، ترنمول کانگریس کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتیں کل پارٹی میٹنگ کے حق میں تھیں۔ گزشتہ 24 مارچ کو اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر تجویز دی تھی کہ 29 اپریل کے بعد میٹنگ بلائی جائے تاکہ تب تک تمام ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہو جائیں گے ۔ اس کے باوجود حکومت نے اس تجویز کو تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اپوزیشن کے مطالبے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خصوصی اجلاس بلایا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس سیشن میں خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ساتھ حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کا مسئلہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی جیسے اہم موضوع پر اب تک کوئی جامع بحث نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ستمبر 2023 میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ خواتین ریزرویشن بل میں 30 ماہ کے اندر ترمیم لانے کی بات کہی گئی تھی اور اب خصوصی اجلاس میں اسی سمت میں قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔










