ایجنسیز
جموں؍۲؍اپریل:
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے واقعات نہ تو مرکزی حکومت کے قابو میں ہیں اور نہ ہی عوام کے، اور زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال زیادہ تر قومی سطح کے منظر نامے کی آئینہ دار ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں فی الحال ایندھن سمیت ضروری اشیاء کی کوئی قلت نہیں ہے اور یہ کہ ذخائر اگلے۱۰سے۱۵دنوں کے لیے کافی ہیں۔
عمرعبداللہ یہاں قانون ساز اسمبلی میں شرکت کے بعد، اپنے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے ہمراہ مغربی ایشیا کے بحران پر میڈیا نمائندگان سے بات کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ملک کے باقی حصوں میں جو بھی صورتحال ہوگی، وہی جموں و کشمیر میں نظر آئے گی‘‘ اور کہا کہ فوری طور پر پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔
انہوں نے تاہم خبردار کیا کہ اگر جاری تنازعہ طویل ہوتا ہے اور ملک میں کہیں اور قلت پیدا ہوتی ہے تو اس کا اثر اس علاقے تک بھی پھیل سکتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت حالیہ جائزہ میٹنی کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متعدد ذرائع سے سپلائی کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اس مرحلے پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو ہم عوام کو مطلع کریں گے۔‘‘
اس دوران وزیر برائے خوراک، رسدات و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، یوتھ سروسز و اسپورٹس، مسٹر ستیش شرما نے آج زیرو آور کے دوران رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ ایل پی جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب فراہمی دستیاب ہے اور جموں و کشمیر میں ان کی گھبراہٹ میں بکنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔










