مالی سال کے پہلے دن ہی بل کو پیش کرنا بے معنی ہے :عمرعبداللہ
ایجنسیز
جموں؍ یکم اپریل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں ڈیلی ویجرز کو مستقل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آج قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ اس عمل کا آغاز موجودہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا۔
عمرعبداللہ نے یہ بات ایم ایل اے محمد یوسف تاریگامی کی جانب سے پیش کردہ بل کے جواب میں کہی، جس میں کہا گیا تھا’’ایک بل جس کے ذریعے جموں و کشمیر حکومت کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی اور دیگر کارکنوں کی خدمات کو مستقل بنانے اور اس سے متعلقہ امور کو طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس بل کے مقصد کی مخالفت نہیں کرتے، تاہم اس کے پیش کیے جانے کے وقت پر انہیں تحفظات ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’حکومت پہلے ہی واضح طور پر یہ عہد کر چکی ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار مستقلی کا عمل شروع کیا جائے گا اور ہم اس عزم پر قائم ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ مالی سال کا پہلا دن ہے اور میں نے یہ عہد کیا ہے کہ اسی مالی سال کے اندر انہیں مرحلہ وار مستقل کیا جائے گا‘‘۔
عمرعبداللہ نے زور دیا کہ مخالفت بل کے جذبے سے نہیں بلکہ اس مرحلے پر اس کی پیشی سے ہے، خاص طور پر جب حکومت حال ہی میں اس حوالے سے اعلان کر چکی ہے۔انہوں نے کہا ’’ابھی ایک ماہ بھی نہیں گزرا کہ یہ یقین دہانی دی گئی تھی۔ میرے خیال میں مالی سال کے پہلے ہی دن اس معاملے کو اٹھانا بے معنی محسوس ہوتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان ملازمین کے خدشات کو بخوبی سمجھتی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے اہم سال خدمات انجام دینے میں گزارے ہیں، اور ان کی مستقلی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
عمرعبداللہ نے تعمیری رویہ اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اس وقت ایک کمیٹی کے زیر غور ہے اور اس کی رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے رکن اسمبلی تاریگامی سے اپیل کی کہ حکومتی یقین دہانی اور جاری عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنا بل واپس لے لیں۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی پر مطمئن ہو کر محمد یوسف تاریگامی نے اپنا بل واپس لے لیا۔اسی نوعیت کا ایک اور بل، جو ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور جس میں ایڈہاک، ڈیلی ویجرز، نیڈ بیسڈ اور دیگر عارضی کارکنوں کی مستقلی کی تجویز دی گئی تھی‘ صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے بھی بدھ کے روز ڈیلی ویج ورکرز کو مستقل کرنے کے حکومتی عزم کو دہرایا اور کہا کہ یہ عمل مالی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منظم طریقے سے انجام دیا جائے گا۔
ایوان میں دی گئی یقین دہانیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، چودھری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پہلے ہی اپنے دورِ اقتدار کے اندر ڈیلی ویجرز کو مستقل کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔
چودھری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’جب اسمبلی میں اس طرح کا بیان دیا جاتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے‘‘۔ جب ان سے جموں و کشمیر میں ڈیلی ویجرز کو مستقل نہ کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا۔
نائب وزیراعلیٰ نے کہا’’میں نے کل بھی واضح کیا تھا کہ کبھی کبھی ہم ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ایوان کے قائد اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اسمبلی میں یہ کہتے ہیں کہ ان کارکنوں کو ‘ اپنے دور میں مستقل کیا جائے گا، تو اس عزم کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے‘‘۔
چودھری نے کہا کہ ڈیلی ویجرز کی جانب سے بار بار احتجاج کرنا غیر ضروری ہے اور یہ قانون سازی کے عمل سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ یا تو ڈیلی ویجرز اسمبلی کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، یا پھر وہ لوگ جو انہیں اکساتے ہیں اور روزانہ احتجاج پر آمادہ کرتے ہیں، وہ بھی اس کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔ اور اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کچھ ارکان ایوان کے اندر مزدوروں کو احتجاج کے لیے اکسا رہے ہیں تو وہ بھی اسمبلی کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں‘‘۔
چودھری نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہے اور اس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا’’جب وزیر اعلیٰ نے ایوان کے فلور پر انہیں مستقل کرنے کا وعدہ کیا ہے ‘اور ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے ‘تو یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ انہیں راتوں رات مستقل کر دیا جائے گا‘‘۔
نائب وزیر اعلیٰ نے اس اقدام کے مالی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یونین ٹیریٹری اس بوجھ کو برداشت کر سکتی ہے۔ ’’کیا ریاست اضافی تنخواہوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟ اگر مرکزی حکومت نے۵ہزار کروڑ روپے کی خصوصی امداد فراہم نہ کی ہوتی تو مارچ میں موجودہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہو جاتا‘‘۔
چودھری، جو خود کو سابق ٹریڈ یونین لیڈر قرار دیتے ہیں، نے کہا کہ اس نوعیت کے مسائل مسلسل احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا اور دیگر متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ مزدوروں کے سامنے حقیقت پسندانہ تصویر پیش کریں، کیونکہ بار بار کے احتجاج سے لاکھوں خاندانوں سے جڑے اس سنجیدہ مسئلے کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔
حکومت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عزم صرف چند کارکنوں تک محدود نہیں بلکہ تمام محکموں کے ڈیلی ویجرز تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کاکہنا تھا’’حکومت کے پاس مکمل فہرست موجود ہے اور تمام اہل کارکنوں کو ضابطے کے مطابق مستقل کیا جائے گا۔‘‘










