’ آپ کا مینڈیٹ اب عوامی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا نظر آ رہا ہے‘
ایجنسیز
سرینگر؍ یکم اپریل
اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس پر عوامی مینڈیٹ کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے لینڈ گرانٹس ایکٹ میں ترمیم سے متعلق پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے کی اجازت دینا اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ عوامی اثاثوں اور عام شہریوں کے حقوق کے دفاع کے لیے۔
ایل او پی شرما نے کہا کہ جن لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو اس امید پر ووٹ دیا تھا کہ وہ ان کے حقوق کے لیے لڑے گی، وہ اب خود کو مایوس محسوس کر رہے ہیں۔
شرما نے کہا’’بڑے افسوس کے ساتھ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ کا مینڈیٹ اب عوامی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا نظر آ رہا ہے‘چاہے وہ نیدوز ہوں، وزیر اعلیٰ کی ذاتی جائیداد ہو، یا بااثر افراد کا ایک مخصوص حلقہ ہو‘‘۔
مجوزہ قانون سازی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’لینڈ گرانٹس ایکٹ میں ترامیم کے عنوان سے ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا گیا، اور وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر اسے پیش کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے سرکاری زمین کے وسیع رقبوں کو کم قیمت پر دوبارہ لیز پر دینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری ایک طرز عمل کا تسلسل ہے‘‘۔
ایل او پی نے سوال اٹھایا’’اس سے عام شہری کو کیا پیغام جاتا ہے؟‘‘ اور مزید کہا’’یہ نہایت افسوسناک ہے کہ عوامی اثاثوں کے تحفظ اور پسماندہ طبقات کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے حکومت چند مراعات یافتہ افراد کی سرپرستی کرتی نظر آ رہی ہے—وہی لوگ جو طویل عرصے سے غریبوں کے نقصان پر فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ یہ صرف مایوس کن نہیں بلکہ اعتماد سے غداری ہے‘‘۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت نے بدھ کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے کی اجازت دی، جس میں موجودہ قابضین کے لیے لیز کی تجدید کی درخواست کی گئی ہے۔ اس اقدام کو مرکز کے۲۰۲۲کے لینڈ گرانٹس قواعد کو چیلنج کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بل نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق کی جانب سے پیش کیا گیا اور اسے اس وقت اجازت دی گئی جب عبداللہ، جو محکمہ مال کے بھی انچارج ہیں، نے کہا کہ وہ اس کی پیشی کی مخالفت نہیں کریں گے۔
یہ پہلا موقع ہے جب نیشنل کانفرنس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومتی بنچوں نے کسی پرائیویٹ ممبر بل کی پیشی کے مرحلے پر اعتراض نہیں کیا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اس تحریک کو صوتی ووٹ کے لیے پیش کیا، جسے نیشنل کانفرنس کے ارکان کی حمایت سے منظور کر لیا گیا، جبکہ اپوزیشن نے ووٹنگ کی تقسیم پر زور نہیں دیا۔
مجوزہ قانون سازی کا مقصد جموں و کشمیر لینڈ گرانٹس رولز۲۰۲۲کا مقابلہ کرنا ہے، جن کے تحت بعض ختم شدہ لیز، خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں، دوبارہ تجدید نہیں کی جائیں گی بلکہ انہیں مارکیٹ ریٹ پر نیلام کیا جائے گا۔
یہ معاملہ شمالی کشمیر کے اہم سیاحتی مقام گلمرگ میں متعدد ہوٹل مالکان کی لیز ختم ہونے کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو موجودہ قابضین کے لیے لیز کی تجدید ممکن ہو جائے گی بجائے اس کے کہ نئی نیلامی لازمی قرار دی جائے، جس سے زمین سے متعلق معاملات پر منتخب حکومت اور یونین ٹیریٹری انتظامیہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی عکاسی ہوتی ہے۔










