نئی دہلی/گاندھی نگر، 31 مارچ (یو این آئی)وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کہا کہ پچھلی حکومتوں نے قیمتی مخطوطات کے تحفظ کو نظر انداز کیا تھا، جسے اب درست کیا جا رہا ہے انہوں نے مہاویر جینتی کے موقع پر گجرات کے گاندھی نگر میں واقع کوبا تیرتھ میں سمراٹ سمپرتی میوزیم کا افتتاح کیا اس موقع پر عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھگوان مہاویر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ملک کے عوام کو جینتی کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میوزیم جین فلسفے، ہندستانی ثقافت اور قدیم ورثے کے تحفظ کا ایک اہم مرکز بنے گا اور آنے والی نسلوں کو تحریک دے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان کی ہزاروں سال پرانی علمی روایت کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے گیان بھارتَم مشن شروع کیا ہے، جس کے تحت قدیم مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن، اعلیٰ معیار کی اسکیننگ اور سائنسی طریقوں سے حفاظت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاڑ پتروں اور بھوج پتروں پر لکھے گئے صدیوں پرانے نایاب گرنتھ کو کوبا تیرتھ میں محفوظ کیا گیا ہے، جو ماضی اور حال کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی اہم ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سمراٹ سمپرتی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کچھ حکمرانوں نے تشدد کے ذریعے حکومت کی، وہیں سمراٹ سمپرتی نے اہنسا، سچائی اور خدمت کا راستہ اپنایا، اور یہی ہندستان کی اصل پہچان ہے۔
انہوں نے اس موقع پر 10 عزم (سَنکلپ) کا بھی ذکر کیا، جن میں پانی کا تحفظ، “ایک پیڑ ماں کے نام”، صفائی، ووکل فار لوکل، قدرتی کھیتی، صحت مند طرزِ زندگی، یوگا و کھیل، غریبوں کی مدد اور ہندستان کے ورثے کا تحفظ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا بے چینی اور تنازعات کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں جین دھرم اور سمراٹ سمپرتی میوزیم کا پیغام پوری انسانیت کے لیے نہایت اہم ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے میوزیم کی مختلف گیلریوں کا جائزہ لیا اور جین سادھوؤں، خاص طور پر آچاریہ شری پدمساگر سوریشور جی مہاراج سے آشیرواد بھی حاصل کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو بھارتی ثقافت اور تاریخ کو عام کرنے کی سمت میں ایک قابلِ ستائش قدم قرار دیا۔










