نائب وزیر اعلیٰ نے موجودہ حفاظتی نظام کو ’کافی‘قراردیا
ایجنسیز
جموں؍۳۰مارچ
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ نجی بل کو، جو ریاست میں مندروں کے تحفظ اور بحالی سے متعلق تھا،صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے اس فیصلے کے حق میں موجودہ حفاظتی نظام کو کافی قرار دیا۔
چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر کی اصل طاقت فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام کی روایت میں مضمر ہے، اور یہ کہ ماضی کی حکومتوں سمیت موجودہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے مندروں، مساجد، گردواروں اور گرجا گھروں کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیا نے یہ بل پیش کیا تھا، جس کا مقصد’جموں و کشمیر میں مندروں کے تحفظ اور غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ اراضی کی واپسی کو یقینی بنانا‘تھا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو اس وقت ایوان میں موجود تھے، نے کھڑے ہو کر کہا کہ وہ اس بل کی مخالفت کرتے ہیں۔
بی جے پی رکن نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مندروں کے تحفظ اور بحالی کے لیے ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہے، خاص طور پر اُن مذہبی مقامات کے لیے جو وادی میں شورش کے دوران متاثر ہوئے اور جہاں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث قبضوں اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
جب نائب وزیر اعلیٰ حکومت کی جانب سے جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو منکوٹیا نے ابتدا میں اعتراض کیا اور کہا کہ چونکہ وزیر اعلیٰ نے بل کی مخالفت کی ہے، اس لیے جواب بھی وہی دیں، تاہم اسپیکر کی مداخلت کے بعد انہوں نے اپنا اعتراض واپس لے لیا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کا حصہ ہوں اور مجھے (نیشنل کانفرنس کے صدر) فاروق عبداللہ کی میراث کی نمائندگی پر فخر ہے، جو ہمیشہ تمام مذاہب کے لیے کھڑے رہے ہیں اور مندروں، مساجد، گردواروں اور گرجا گھروں کا دورہ کرتے رہے ہیں۔ جہاں بھی وہ گئے، ہر مذہب کے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ انہی میں سے ہیں‘‘۔
چودھری نے کہا کہ جب بھی نیشنل کانفرنس اقتدار میں آئی، تمام مذہبی اداروں کا تحفظ کیا گیا۔
ان کاکہنا تھا’’کسی بھی مذہب یا برادری کو دوسرے کے مقدس مقامات پر قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی کسی حکومت نے کبھی اس کی اجازت دی ہے۔ یہی جموں و کشمیر کی اصل خوبصورتی ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس بل کی ضرورت ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف مندروں ہی نہیں بلکہ تمام مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ ’’اگر کہیں بھی قبضہ ہوا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘‘۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے سے ہی ادارہ جاتی نظام موجود ہے، جیسے مسلمانوں کے لیے وقف بورڈ، سکھوں کے لیے گردوارہ پربندھک بورڈ اور ہندو مذہبی اداروں کے لیے دھرمارتھ ٹرسٹ۔
چودھری نے کہا’’مناسب قانونی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ ہماری قیادت فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مہمان نوازی اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے—وہ اقدار جن کی وجہ سے جموں و کشمیر کو ملک اور دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے‘‘۔
جب منکوٹیا نے بل واپس لینے سے انکار کیا تو اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے اسے ووٹنگ کے لیے پیش کیا، اور ایوان نے اسے مسترد کر دیا۔










