لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کانگریس نے قبضوں کی اجازت دی، جبکہ بی جے پی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے:وزیر اعظم
ایجنسیز
نئی دہلی؍۳۰ مارچ
کانگریس پر دراندازوں کو زمینوں پر قبضے کی ’اجازت‘ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ آسام میں دراندازی صرف ایک انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی شناخت اور قومی سلامتی کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
۹؍اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل آسام میں بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ریاست نے طویل عرصے تک عدم استحکام دیکھا، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں پارٹی کی ڈبل انجن حکومت نے امن کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، جس سے حالات میں تبدیلی آئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں کو آسام میں کانگریس کی سابقہ حکومتوں کی’بدانتظامی‘ کی یاد دہانی کرانا ضروری ہے اور انہیں خبردار کیا جانا چاہیے کہ معمولی سی غلطی بھی ریاست کو پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکن ریاست میں پارٹی کی ہیٹ ٹرک یقینی بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔
مودی نے کہا’’دراندازی صرف انتخابی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ آسام کی شناخت اور قومی سلامتی کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ کانگریس نے دراندازوں کو غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ کرنے دیا۔جہاں کہیں درانداز آباد ہوتے ہیں، وہ چھوٹے کاروباروں اور مقامی لوگوں کے روزگار پر قبضہ کر لیتے ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے حکمراں بی جے پی کی ’میرا بوتھ، سب سے مضبوط سمواَد‘مہم کے دوران کہا کہ بی جے پی کارکنوں کو غیر قانونی زمین قبضوں کے معاملات، مقامی لوگوں کو درپیش مسائل اور دراندازوں سے متاثرہ افراد کی مشکلات سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ’’لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کانگریس نے قبضوں کی اجازت دی، جبکہ بی جے پی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ حکومت نے شمال مشرق میں مختلف تنظیموں کے ساتھ۱۲؍امن معاہدے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں کو لوگوں کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ کانگریس ’’صرف سرخیاں بنانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کاغذی معاہدے کرتی تھی‘‘۔
انہوں نے کہا’’ہم نے وہ دور دیکھا ہے جب آسام تشدد کی آگ میں جل رہا تھا۔ ریاست نے طویل عرصے تک عدم استحکام دیکھا، لیکن گزشتہ ایک دہائی میں حالات بدلے ہیں۔ آج ایک نیا اعتماد نظر آتا ہے کیونکہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت نے امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں‘‘۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس کے دور میں امن معاہدوں کو نظر انداز کیا گیا اور نوجوانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بے چینی کی طرف مائل ہوئے۔ انہوں نے کہا’’کانگریس کے دور میں باغی گروہوں اور طلبہ تنظیموں کے ساتھ کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہوا۔ کانگریس نے بودو مقصد سے غداری کی۔بی جے پی نے امن قائم کرنے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا۔ ہم زمین پر ایمانداری سے امن معاہدوں کو نافذ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں آسام نے دیکھا ہے کہ کس طرح مخلصانہ کوششوں سے امن قائم ہوا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بودو قبائلی علاقوں کی ثقافت بہت مالا مال ہے، لیکن دہائیوں تک کانگریس نے اس خطے کو نظر انداز کیا۔’’مجھے خوشی ہے کہ آج امن ہے۔ بودولینڈ کبھی کرفیو اور دھماکوں کی آوازوں کا سامنا کرتا تھا، لیکن آج وہاں امن اور استحکام ہے۔ یہ ملک کے لیے ایک بڑا ماڈل ہے، ایک ایسا خطہ جو کبھی تشدد کا شکار تھا، اب امن کی راہ پر گامزن ہے‘‘۔
مودی نے کہا کہ سب لوگ آسام میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی ہیٹ ٹرک کے لیے کام کر رہے ہیں۔’’میں آسام بی جے پی کے کارکنوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ میں بھی آپ کی طرح ایک کارکن ہوں۔ مجھے جو بھی ذمہ داری دی جاتی ہے، میں اسے نبھاتا ہوں۔ آج بوتھ سطح پر مجھے آپ سے بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ مصروف ہیں اور آپ سب ‘میرا بوتھ سب سے مضبوط’ کے عزم سے بھرپور ہیں‘‘۔
انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ پہلی بار اور نوجوان ووٹروں کو کانگریس حکومتوں کی ’بدانتظامی‘ سے آگاہ کیا جائے۔ ’’امن کسی بھی ریاست کی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ کانگریس کے دور میں باغی گروہوں اور طلبہ تنظیموں کے ساتھ کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہوا‘‘۔
مودی نے آسام بی جے پی کارکنوں سے کہا کہ وہ ریاست میں گردش کرنے والی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کے خلاف لوگوں کو خبردار کریں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کارکن ایسے پروگرام منعقد کریں جہاں تشدد چھوڑ کر مرکزی دھارے میں شامل ہونے والوں کے تجربات سنے جا سکیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تمام بی جے پی کارکنوں کے پاس ‘نمو ایپ’ ہونی چاہیے، جس کے ذریعے پارٹی ارکان کو ‘ناری شکتی’ کے فروغ کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلی معلومات حاصل ہوں گی۔انہوں نے کہا’’بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت پورے ملک میں خواتین کی پہلی پسند ہے‘‘۔مودی نے کہا کہ کارکن یہ بھی سیکھیں گے کہ ڈبل انجن حکومت کیا فوائد دے سکتی ہے، جیسے آسام کی ‘اورونودوئی’ اسکیم اور ‘لکھپتی دیدی’ پروگرام۔
مودی نے کہا’’ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لکھپتی دیدیوں کی کامیابی کی کہانیاں لوگوں تک پہنچائی جانی چاہئیں‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کارکنوں کو چائے باغات میں بوتھوں کا دورہ کرنا چاہیے اور ٹفن میٹنگز یا ‘چائے پر چرچا’ کا اہتمام کر کے لوگوں کے مسائل اور ماضی کے تجربات سننے چاہئیں۔انہوں نے کہا، ’’وہ آپ کو بتائیں گے کہ انہیں کس طرح کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ نوجوانوں کو بھی ان نشستوں میں شامل ہونا چاہیے‘‘۔ مودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہت کام کیا ہے، لیکن لوگوں کی توقعات اب بھی زیادہ ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ چائے باغات کے مزدوروں کو دیے گئے زمین کے حقوق ہزاروں خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں گے اور ان کی عزت نفس کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مغربی بنگال کی حکومت وہاں کے چائے باغات کے مزدوروں تک مرکزی اسکیموں کو پہنچنے نہیں دے رہی۔
۱۲۶ رکنی آسام اسمبلی کے انتخابات ۹ ؍اپریل کو ہوں گے۔ آسام میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت۲۰۱۶ سے اقتدار میں ہے۔ (ایجنسیاں)










