’مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بھارت میں انٹرنیٹ ٹریفک میں دباؤ اور کارکردگی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳۰مارچ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان انٹرنیٹ میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر بحیرۂ احمر میں زیرِ سمندر بچھائی گئی کیبلز کو ممکنہ نقصان کے باعث۔
اگرچہ ایران نے باضابطہ طور پر ان مواصلاتی کیبلز کو کاٹنے کی کوئی دھمکی نہیں دی، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی اکاؤنٹس نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اس امکان کا اظہار کیا ہے۔
آخری بار ستمبر۲۰۲۵میں بحیرۂ احمر کی کیبلز کو نقصان پہنچا تھا، جب مبینہ طور پر ایک تجارتی جہاز کے لنگر گھسیٹنے سے کئی زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کٹ گئی تھیں۔
اس واقعے کے نتیجے میں کئی ممالک، خاص طور پر مغربی اور جنوبی ایشیا میں، انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی تھی۔
اب جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، انٹرنیٹ کی بڑے پیمانے پر بندش کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، خاص طور پر یمن کے حوثی باغیوں کی شمولیت کے بعد۔
ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے متعدد مواقع پر اپنے سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے بحیرۂ احمر میں فائبر آپٹک کیبلز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے باعث مستقبل میں حوثیوں کی جانب سے ان کیبلز پر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
انٹرنیشنل کیبل پروٹیکشن کمیٹی(آئی سی پی سی )کے جان وروٹسلی نے گزشتہ سال ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ تقریباً۳۰فیصد سالانہ کیبل حادثات لنگر گھسیٹنے کے باعث ہوتے ہیں، جو ہر سال تقریباً۶۰خرابیوں کا سبب بنتے ہیں۔تاہم، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث اب دانستہ تخریب کاری عالمی سطح پر ایک بڑی تشویش بن چکی ہے۔
بحیرۂ احمر میں موجود کیبلز مالی لین دین، کلاؤڈ سروسز، ویڈیو کالز، ای میلز اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے نیٹ ورکس کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
ستمبر۲۰۲۵کے واقعے سے بھارت بھی متاثر ہوا تھا۔ اگرچہ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن ملک بھر میں بڑے نیٹ ورکس میں خلل اور سست رفتاری دیکھنے میں آئی تھی۔
بھارت میں کلاؤڈ سروسز، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور اے آئی ٹیکنالوجی پر بڑھتے انحصار کے پیش نظر، بحیرۂ احمر کی کیبلز کو کسی بھی نقصان سے ملک کی کنیکٹیویٹی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً۹۵فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ان ہی زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ بھارت میں اس وقت۱۷ایسی کیبلز۱۴ لینڈنگ اسٹیشنز کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں، جو ممبئی، چنئی، کوچین، توتیکورین اور ترواننت پورم میں واقع ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بھارت میں انٹرنیٹ ٹریفک میں دباؤ اور کارکردگی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز خطرناک زون بنے ہوئے ہیں۔
مزید یہ کہ بھارت کی انٹرنیٹ ٹریفک غیر متوازن ہے، جس کا تقریباً دو تہائی حصہ ممبئی کے ذریعے جبکہ باقی چنئی کے ذریعے گزرتا ہے، جو ایک ممکنہ کمزور نقطہ بن سکتا ہے۔
اگر ممبئی یا چنئی میں کسی بھی قسم کی خرابی‘چاہے قدرتی آفت ہو یا تکنیکی مسئلہ‘پیدا ہو جائے، تو ملک کے بڑے حصے میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہو سکتی ہے۔










