ایجنسیز
نئی دہلی؍۳۰ مارچ
دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے بنگلہ دیش سرحد کے قریب ایک مربوط کارروائی کے دوران لشکرِ طیبہ (لشکر) کے کمانڈر شبیر احمد لون کو گرفتار کر لیا ہے۔
کیس سے وابستہ حکام نے بتایا کہ لون، ڈھاکہ کے مضافات میں واقع ایک خفیہ ٹھکانے سے لشکر کا ایک ماڈیول چلا رہا تھا۔ یہ کامیابی دو ماہ کی سخت تگ و دو اور تلاش کے بعد ملی، جس کی نگرانی خود دہلی پولیس کے کمشنر ستیش گولچا کر رہے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر پرمود کشواہا، اسسٹنٹ کمشنر للت نیگی اور انسپکٹر سنیل راجین کی قیادت میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹاسک فورس لون کی سرگرمیوں پر اس وقت سے ہی باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے تھی، جب خفیہ معلومات سے یہ اشارہ ملا تھا کہ وہ دہلی، کولکتہ اور تمل ناڈو میں نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے اور انہیں تنظیم میں بھرتی کرنے میں ملوث ہے۔
اس سے قبل دہلی پولیس نے اسے۲۰۰۷میں دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کیا تھا، لیکن۲۰۱۹میں ضمانت ملنے کے بعد وہ ملک سے فرار ہو کر بنگلہ دیش چلا گیا تھا۔ تب سے وہ ایک مسلسل خطرہ بن گیا تھا اور اس نے ایک ایسا دہشت گرد نیٹ ورک کھڑا کر لیا تھا جس نے دارالحکومت کے انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ اور دیگر مرکزی سکیورٹی ایجنسیوں کو ہمیشہ ہائی الرٹ پر رکھا۔ تاہم، لون اس بڑی پہیلی کا صرف ایک حصہ ہے۔ سکیورٹی ایجنسیاں ساتھ ہی ایک اور مفرور دہشت گرد سرغنہ شیخ سجاد گل کا پتہ لگانے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں، جس کے تار قومی دارالحکومت سے جڑے ہوئے ہیں۔
گل کو پہلی بار۲۰۰۲میں دہلی کے نظام الدین اسٹیشن پر پکڑا گیا تھا اور۲۰۰۳میں سزا پانے کے بعد اس نے تیہاڑ جیل میں ایک دہائی سے زیادہ وقت گزارا۔
دس سال کی سزا پوری کرنے کے بعد اسے۲۰۱۷ میں رہا کر دیا گیا تھا اور مانا جاتا ہے کہ اسی وقت وہ پاکستان فرار ہو گیا تھا۔ اب خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گل لشکر کی ایک خفیہ شاخ ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ میں ایک اہم عہدے پر پہنچ گیا ہے۔
اس تنظیم پر کئی حملوں کی سازش رچنے کا الزام ہے، جن میں پہلگام کا مشہور دہشت گرد حملہ بھی شامل ہے۔










