بیروت، 27 مارچ (یو این آئی/اسپوتنک) اسرائیلی توپخانے نے جنوبی لبنان کی آٹھ بستیوں پر فاسفورس والے گولہ بارود سے حملہ کیا۔ یہ اطلاع لبنانی قومی خبر ایجنسی (این اے این اے) نے جمعہ کے روز دی۔
بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی علاقوں میں فاسفورس والے گولہ بارود کا استعمال ممنوع ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کے معیارات کے مطابق شہریوں یا آباد علاقوں کے خلاف آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال ممنوع ہے۔
یہ مخصوص روایتی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن میں شامل ہے، جو ایسے حملوں پر پابندی لگاتا ہے، جن سے شدید تکلیف کا اندیشہ ہو۔ فاسفورس کا استعمال شدید جھلساؤ اور آگ کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے شہریوں کے خلاف اس کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی قومی ہنگامی سروس یعنی میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) نے کہا کہ لبنانی حزب اللہ تحریک کی گولہ باری کے نتیجے میں شمالی اسرائیل میں ایک شخص ہلاک ہو گیا اور 11 دیگر زخمی ہو گئے۔
نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود، لبنان بار بار اسرائیل پر اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگاتا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے پانچ اسٹریٹجک مقامات پر موجود ہے، جن میں غجار گاؤں کا شمالی حصہ بھی شامل ہے، جسے لبنانی حکام مسلسل قبضہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ حملوں میں حزب اللہ کے فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیل نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے عسکری ونگ کے رہنماؤں کو ختم کرنے اور شیعہ تحریک سے پیدا ہونے والے خطرے کو ختم کرنے کے لیے لبنان پر حملے جاری رکھے گا۔








