ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۶مارچ
مرکز نے لوک سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں تقریباً ہر جگہ موبائل کنیکٹیویٹی حاصل ہو چکی ہے، تاہم دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اب بھی بہت کم تعداد میں ایسے گاؤں ہیں جو کوریج سے باہر ہیں۔
رکن پارلیمان گرمیت سنگھ میٹ ہائر کے ایک ستارہ دار سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مواصلات جیوتی رادتیہ ایم سندھیا نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں کل۶۴۷۴ گاؤں ہیں، جن میں سے۶۲۲۶موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ۲۴۸ گاؤں ابھی تک غیر کور ہیں۔
ٹیکنالوجی کے لحاظ سے، جموں و کشمیر میں۶۲۰۸ گاؤں میں فور جی کنیکٹیویٹی ہے، جبکہ۳۷۰۴ گاؤں ۵ جی سروسز کی زد میں آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ‘۵۳۰گاؤں ۳جی ؍اور۶۰۳۰گاؤں۲جی نیٹ ورکس سے مستفید ہیں۔
لداخ کے۲۴۳کل گاؤں میں سے۲۳۳ موبائل کنیکٹیویٹی رکھتے ہیں، جبکہ۱۰ گاؤں ابھی تک کوریج سے باہر ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ لداخ کے۲۲۹ گاؤں میں ۴ جی سروسز ہیں،۲۲ گاؤں۵جی کی زد میں ہیں،۷۸ گاؤں ۳جی کنیکٹیویٹی رکھتے ہیں، اور۱۷۹گاؤں ۲جی کوریج میں آتے ہیں۔
وائرڈ براڈ بینڈ کے محاذ پر، جموں و کشمیر کی۱۱۳۰ گرام پنچایتوں اور لداخ کی۱۹۳گرام پنچایتوں کو بھارت نیٹ پروگرام کے تحت سروس کے لیے تیار کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ رسائی کو بڑھانا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ حکومت دور دراز علاقوں میں کنیکٹیویٹی بڑھانے کے لیے بھارت نیٹ اور ۴جی سیچوریشن پروگرام جیسے منصوبے نافذ کر رہی ہے۔ ان اقدامات کے تحت ملک بھر میں۲۴ہزار۲۶۳موبائل ٹاورز نصب کیے جا چکے ہیں۔
مرکز کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ جیسے دور دراز علاقوں میں مشکل خطہ، کم آبادی اور موسمی حالات جیسے چیلنجز کنیکٹیویٹی کی توسیع کو متاثر کرتے رہتے ہیں، لیکن ہر جگہ کوریج حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔










