’جموں و کشمیر میں سرمائی ٹریکنگ اور گنڈولا سواریوں کو فروغ دیا جا رہا ہے‘ لداخ کے ہانلے میں بھارت کا پہلا ڈارک اسکائی ریزرو قائم ہوگا‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۵مارچ
لداخ کی پینگونگ جھیل پر منعقد ہونے والی منجمد میراتھن سے لے کر لکشدیپ میں اسنورکلنگ اور اسکو با ڈائیونگ جیسی زیرِ آب سرگرمیوں تک، مرکز مختلف مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں سیاحت کے منفرد (نِش) شعبوں کو فروغ دے رہا ہے تاکہ مقامی معیشت کو تقویت دی جا سکے۔ بدھ کے روز راجیہ سبھا کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ حکومت فلکیاتی سیاحت، ماحولیاتی سیاحت، فطرت و حیاتیاتی تنوع پر مبنی سیاحت، ورثہ و ثقافتی سیاحت، فلاحی سیاحت کے ساتھ ساتھ مہماتی، کروز اور دیہی سیاحت جیسے نئے شعبوں کو ’فعال طور پر فروغ‘دے رہی ہے۔
یہ سوال رکنِ پارلیمنٹ درشنا سنگھ نے پوچھا تھا، جنہوں نے دریافت کیا کہ آیا حکومت نے مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں سیاحت کی نئی اقسام کو فروغ دینے کے لیے ’کوئی ٹھوس قدم‘ اٹھایا ہے اور کیا جزیرہ نما یوٹیز میں بالخصوص ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ مختلف یوٹیز میں سیاحت کے منفرد شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ان کی مخصوص سیاحتی خصوصیات کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
اہم اقدامات میں رائے نے لداخ کے ہانلے میں بھارت کا پہلا ڈارک اسکائی ریزرو قائم کرنے، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں سمندری کناروں اور قدرتی پگڈنڈیوں کی ترقی، اور انڈمان و نکوبار جزائر میں بیرن آئی لینڈ کروز کے آغاز کو نمایاں کیا، جہاں سیاح بھارت کے واحد فعال آتش فشاں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزیرنے یہ بھی بتایا کہ لداخ میں پینگونگ جھیل پر منجمد میراتھن، آئس ہاکی اور آئس کلائمبنگ جیسے کھیلوں کے مقابلوں اور تہواروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر میں سرمائی ٹریکنگ اور گنڈولا سواریوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ چندی گڑھ میں بین الشہری سیاحتی سرکٹس کی ترقی اور ویک اینڈ سیاحت کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔
شہری اقدامات کے تحت دہلی میں سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ڈبل ڈیکر بس متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ پڈوچیری میں میٹنگز، انسینٹو، کانفرنسز اور نمائشوں سیاحت کے لیے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
جزیرہ نما علاقوں میں ماحولیاتی سیاحت کے حوالے سے رائے نے کہا کہ انڈمان و نکوبار جزائر میں لانگ آئی لینڈ اور شہید دویپ سمیت مختلف مقامات پر ایکو ٹورزم ریزورٹس کی ترقی کے لیے لیٹر آف ایوارڈ جاری کیے گئے ہیں۔
لکشدیپ میں انہوں نے کہا کہ کدمت اور سہیلی جزائر پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت لگون ولاز کی تعمیر کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں، جبکہ بنگرام جزیرے پر۵۰گلژری ٹینٹ ریزورٹس پہلے ہی فعال ہو چکے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کو متنوع اور پائیدار سیاحتی مقامات کے طور پر پیش کرنا ہے۔ (ایجنسیاں)










